
31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے متعدد اضلاع میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے “آپریشن ھیروف 2.0” کے نام سے ایک وسیع پیمانے پر دہشت گرد کاروائیوں کا آغاز کیا۔ جس کا مقصد پاکستان کی انتظامی گرفت کو مکمل طور پر مفلوج کرنا تھا۔ اس آپریشن کی منصوبہ بندی غیر معمولی طور پر پیچیدہ تھی، جس کا مرکز افغانستان کے صوبہ ہلمند میں واقع ایک جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تھا۔ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق اس خفیہ مرکز میں دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز کے ہمراہ بھارتی اور اسرائیلی اہلکاروں کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں۔ جو ثبوت ہیں کہ یہ کارروائی مقامی شورش نہیں بلکہ ایک وسیع جیو پولیٹیکل ایجنڈے کا حصہ تھی۔
حملہ آوروں کا بنیادی ہدف بلوچستان کے مختلف شہروں میں سرکاری افسران اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بڑے پیمانے پر یرغمال بنا کر ایک ایسی صورتحال پیدا کرنا تھا جس میں ریاست بے بس دکھائی دے۔ تاہم، پاکستانی سکیورٹی فورسز کے رد عمل نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ دہشت گردوں نے شدید مزاحمت کی، لیکن شام ڈھلنے تک ان کی اکثریت ماری گئی اور وہ اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس پورے بحران کے دوران وہ صرف ایک ڈپٹی کمشنر کو یرغمال بنا سکے۔
اس کارروائی کے دوران افغانستان کے سرحدی صوبوں ہلمند اور نیمروز کے سرکاری حکام اور افغان میڈیا کا کردار انتہائی مشکوک تھا، جو نہ صرف مسلسل حملہ آوروں کے بیانیے کو فروغ دے رہے تھے بلکہ ان کے “نفس ناطقہ” کے طور پر کام کر رہے تھے۔
اسی دوران بھارتی اور اسرائیلی میڈیا نے ان حملوں کو اس طرح پیش کیا جیسے بلوچستان عملی طور پر پاکستان سے الگ ہو چکا ہو۔
اس حملے کی جڑیں بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں میں پیوست ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران پر حملے کے امکانی منصوبے کے تناظر میں “آزاد بلوچستان” کا قیام اسرائیل کا ایک اہم تزویراتی ہدف ہے۔
اسرائیل نے اس منصوبے پر کافی عرصہ قبل کام شروع کیا تھا تاکہ ایرانی سیستان اور پاکستانی بلوچستان میں علیحدگی پسندی کو ہوا دے کر ایک ایسا بفر زون بنایا جائے جو اسرائیل کے لیے آبنائے ہرمز کے قریب ایک “اڈے” کے طور پر کام کر سکے۔ اس اڈے کا اصل مقصد ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور گوادر میں ہونے والی چینی سرمایہ کاری (CPEC) کو سبوتاژ کر کے پاکستان کے مغربی فرنٹ کو مستقل طور پر غیر محفوظ بنانا ہے۔ اس سلسلے میں “ہربیار مری” کا اسرائیلی اخبار (Israel Hayom) کو دیا گیا وہ انٹرویو انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں اُس نے کھل کر اسرائیل سے مدد کی اپیل کی اور مشترکہ دشمنوں (پاکستان اور ایران) کے خلاف بلوچ اعلیحدگی پسنندوں اور اسرائیل کو فطری اتحادی قرار دیا تھا۔
گزشتہ برس اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد، اسرائیلی سکیورٹی اور انٹیلیجنس حکام پر مشتمل مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (MEMRI) نے “بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ” (BSP) کا باقاعدہ آغاز کر دیا تھا۔ اس منصوبے کا ایک بنیادی ہدف ایران اور پاکستان کے بلوچ علیحدگی پسندوں کے درمیان کوارڈینیشن پیدا کرنا تھا۔ اس کام کے لیے “میر یار بلوچ” کو “خصوصی مشیر” مقرر کیا گیا، جس نے 2025 کے وسط میں سوشل میڈیا پر بلوچستان کی “آزادی” کا اعلان کیا تھا، جسے بھارتی اور اسرائیلی میڈیا نے بھرپور کوریج فراہم کی تھی۔
اس پروجیکٹ کو بڑی کامیابی دسمبر 2025 میں حاصل ہوئی، جب ایران اور پاکستان سے اعلیحدگی کی دعوے دار چار بڑی بلوچ تنظیموں نے مبارزون پاپولر فرنٹ (MPF) کے بینر تلے متحد ہونے کا اعلان کیا۔
اس اتحاد میں مذہب بیزار، کیمونسٹ نظریات کی حامل بلوچ لبریشن آرمی (BLA)، بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF)، الٹرا سیکولر نظریات کی حامل بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) اور سخت گیر دیوبندی+سلفی نظریات کی حامل “جیش العدل” شامل ہوئی ہیں۔
حیرت انگیز طور پر اعلان کردہ “مبارزون” (MPF) کا تنظیمی ڈھانچہ روایتی گوریلا نیٹ ورکس کے برعکس ایک باقاعدہ “شیڈو گورنمنٹ” اور “مشترکہ فوجی کمان” کے ماڈل پر استوار کیا گیا ہے، جس کی باگ ڈور ایک طاقتور “کونسل آف ہائی کمان” کے ہاتھ میں ہے جہاں BLA، BLF، BRA اور جیش العدل کے سربراہان باہمی وسائل کی تقسیم اور بڑے پیمانے پر حملوں کی تزویراتی منظوری دیتے ہیں۔
اس ڈھانچے کو ایک جدید “مشترکہ انٹیلیجنس ونگ” کی تکنیکی معاونت حاصل ہے جسے مبینہ طور پر اسرائیلی موساد اور بھارتی ‘را’ جیسی غیر ملکی ایجنسیوں سے حساس معلومات، سیٹلائٹ فونز اور ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت پر دقیق نظر رکھ سکیں۔
اس اتحاد کا سب سے اہم پہلو اس کا “نظریاتی سیل” ہے، جس کا مقصد جیش العدل کی مذہبی انتہا پسندی اور کیمونسٹ و سیکولر قوم پرستی کے بظاہر متضاد نظریات کا امتزاج تیار کرنا ہے، تاکہ تہران اور اسلام آباد کے خلاف “مشترکہ انقلابی محاذ” کو پروان چرھایا جا سکے۔
آپریشنل حکمتِ عملی کے اعتبار سے “مبارزون” ہائبرڈ وارفیئر کے ایک نئے اور پیچیدہ نمونے پر عمل پیرا ہے، جہاں “آپریشن ھیروف 2.0” جیسے کثیر الجہتی حملوں (Multi-Front Attacks) کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔
اس عسکری حکمتِ عملی کو تقویت دینے کے لیے میر یار بلوچ کی نگرانی میں ایک وسیع میڈیا سیل کام کر رہا ہے جو نفسیاتی جنگ کے ذریعے سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈا اور جعلی ویڈیوز پھیلا کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ بلوچستان کے اسٹریٹجک علاقے ریاست کے کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں۔ “مبارزون” (جدوجہد کرنے والے) جیسے نام کا انتخاب دراصل اسی وسیع تر عالمی برانڈنگ کا حصہ ہے تاکہ اس گروہ کو ایک دہشت گرد تنظیم کے بجائے بین الاقوامی سطح پر ایک “مقدس جدوجہد” کرنے والے انقلابی محاذ کے طور پر متعارف کرایا جا سکے، اور مستقبل میں اس آڑ میں سی پیک (CPEC) جیسے اہم منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکی مداخلت کا جواز پیدا کیا جا سکے۔
واضع رہے کہ پاکستان پر حالیہ حملوں کے دوران ہی اس نئے اتحاد (MPF) نے ایران کے شہر بندر عباس میں پاسداران انقلاب کے ایک سینیئر کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور تین دیگر ایرانی شہروں میں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ تمام واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حالیہ حملے محض دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ اسرائیل، بھارت، پاکستان اور ایران کے درمیان جاری “ہائبرڈ وار” کا ایک حصہ ہیں۔ اس پورے منظر نامے میں افغان طالبان کی شمولیت پاکستان اور ایران دونوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
