
اسٹریٹجک معاہدے کے تحت پاکستانی فوجی دستے کی آمد، خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کا اعلان
ریاض: (نمائندہ خصوصی) سعودی عرب کی وزارت دفاع نے جمعہ کے روز باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ” اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک فوجی دستہ “، مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت مشرقی سیکٹر میں واقع ” کنگ عبدالعزیز ایئر بیس ” پر پہنچ گیا ہے۔
طیاروں کی تفصیلات اور تعیناتی کا مقصد
سعودی وزارت دفاع کے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس فوجی دستے میں پاک فضائیہ کے ” جدید ترین لڑاکا اور معاون طیارے ” شامل ہیں۔ یہ تعیناتی دراصل دونوں برادر ممالک کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کا پہلا مرحلہ ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ” مشترکہ فوجی ہم آہنگی کو فروغ دینا “، آپریشنل تیاریوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور بالخصوص ” علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام ” کو تقویت پہنچانا ہے۔
تاریخی دفاعی معاہدہ: ایک جائزہ
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ ” اہم دفاعی معاہدہ گزشتہ سال ستمبر 2025 ” میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ریاض میں دستخط کیے تھے۔
ماہرین اس معاہدے کو ” پاک-سعودی دفاعی تعلقات میں کئی دہائیوں کی سب سے بڑی پیش رفت ” قرار دیتے ہیں۔ اس کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ ” ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘ “
علاقائی تناظر اور سیاسی وابستگی
یہ فوجی تعیناتی ایسے اہم وقت پر عمل میں آئی ہے جب پورا مشرق وسطیٰ کشیدگی کا شکار ہے اور ” امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ” اسلام آباد میں جاری ہیں۔ اس تناظر میں، پاکستان اور سعودی عرب کا یہ قدم نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرتا ہے بلکہ خطے میں استحکام کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی دیتا ہے۔
علاوہ ازیں، پاکستانی طیاروں کی آمد کے ساتھ ہی سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان کا دورہ پاکستان بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ” دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعلقات کو بھی فروغ ‘ دیا جا رہا ہے۔
