
*وطن کا خواب*
جب قائد نے ہمیں اپنا آئینہ دکھایا تھا قائداعظم محمد علی جناح نے ہمیں جو پاکستان دیا وہ صرف نقشے کی ایک لکیر نہیں تھی بلکہ ایک سوچ تھی ایک عہد تھا ایک خواب تھا۔ یہ وہ وطن تھا جہاں انسان کا انسان سے تعلق محبت اور انصاف کا تھا، نہ کہ طاقت اور رشوت کا۔
قائداعظم کا پاکستان آج کے اس پاکستان سے بالکل مختلف تھا۔ آج ہم جس ملک میں سانس لیتے ہیں وہاں اکثر یہ شکایت سنائی دیتی ہے کہ ایک عام آدمی اور ایک رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن قائد نے جس پاکستان کی بنیاد رکھی تھی، وہاں ایم این اے ایم پی اے اور چوک پر کھڑا موچی سب برابر تھے۔ کسی کو خاص مراعات نہیں تھیں، نہ کوئی قانون سے بالا تھا۔
قائداعظم نے اپنی تقاریر میں بارہا کہا ہم سب ایک قوم ہیں چاہے ہمارا تعلق کسی بھی مذہب علاقے یا ذات سے ہو حکمران اور عوام سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں۔ان کے وطن کا تصور تھا ایک شفاف نظام جہاں رشوت کی گنجائش ہی نہ ہو۔ وہ خود کہتے تھے کہ رشوت قوم کا زہر ہے۔
ایک سرسبز و شاداب سرزمین جہاں ہر بچے کو صاف پانی میسر ہو ہر گھر میں بجلی ہو اور ہر کسان کو اپنی محنت کا پھل ملے۔ ایک ایسی حکومت جو لوگوں کی خادم ہو، مالک نہیں۔آج جب ہم سڑکوں پر رشوت دیتے ہوئے دفتروں کے چکر کاٹتے ہیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ قانون سے اوپر بیٹھے ہیں اور عام آدمی تھانے سے لے کر اسکول تک ہر جگہ استحصال کا شکار ہے ۔تو ہمیں قائداعظم کا وہ خواب یاد آتا ہے۔
قائداعظم نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ پاکستان میں نوابی نظام چلے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہاں جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ نہ ہو بلکہ انصاف مساوات اور کردار کی پاکیزگی ہو وہ فرمانے والے بہت پہلے ہی چل بسے لیکن اگر آج وہ ہوتے تو شاید آنکھوں میں آنسو لیے کہتے میں نے تمہیں ایک چراغ دیا تھا، تم نے اسے دھواں بنا دیا۔ میں نے تمہیں ادر (عدل) دیا تھا، تم نے اسے اندھیر کر دیا مگر پھر بھی امید ہے۔ جب تک کوئی عام پاکستانی رات کو جاگ کر قائد کے خطبات پڑھتا ہے، جب تک کوئی نوجوان رشوت دینے سے انکار کرتا ہے، جب تک کوئی ماں اپنے بیٹے کو دیانت داری سکھاتی ہے تب تک قائد کا خواب مرا نہیں۔ہمیں آج پھر اس خواب کو زندہ کرنا ہے۔ وطن کے اس حقیقی چہرے کو دوبارہ بنانا ہے جہاں ایم این اے اور بھکاری دونوں قانون کی آنکھوں میں برابر نظر آئیں۔ وطن کا خواب صرف قائد کا نہیں، یہ ہم سب کا ہے۔لیکن بدقسمتی سے آج جو کچھ ہو رہا ہے غربت مہنگائی ناہموار ترقی اور سیاسی عدم استحکام یہ سب اس خواب کی تعبیر نہیں۔ یہ نظام کی ناکامی اور جمہوری اقدار سے دوری کا نتیجہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قائداعظم کے اصولوں پر واپس جائیں ایمان اتحاد اور نظم و ضبط۔ عوام کو بیدار ہونا ہوگا اور انصاف شفافیت اور ترقی کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی۔ تبھی پاکستان وہ پاکستان بن سکتا ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا۔یہ بات بالکل درست ہے کہ پاک فوج ہر لمحہ وطن کی دفاع اور عوام کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔ پاک فوج نے قربانیوں کی بے مثال تاریخ رقم کی ہے۔ چند ایسے عناصر ہمیشہ سے موجود رہتے ہیں جو اپنے مفادات یا بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے فوج پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں اور قوم میں بے چینی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے شرپسندوں کی شناخت اور ان کے پروپیگنڈا کو مسترد کرنا ہر باشعور پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں فوج کے ساتھ اتحاد اور اعتماد کو مزید مضبوط کرنا ہے، اور ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد۔