کھاریاں پریس کلب میں​شبانِ ختمِ نبوت پاکستان کا توہینِ مقدسات کے خلاف اور قانونِ ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے زوردار احتجاجتوہینِ مقدسات کی مرتکب تنظیم اور گستاخان کو تحفظ دینے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

کھاریاں پریس کلب میں
​شبانِ ختمِ نبوت پاکستان کا توہینِ مقدسات کے خلاف اور قانونِ ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے زوردار احتجاج
توہینِ مقدسات کی مرتکب تنظیم اور گستاخان کو تحفظ دینے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، 295-C کو “کالا قانون” کہنے والی خاتون فرزانہ باری کو قانونی سزا دینے کا مطالبہ
​کھاریاں (شاہد بیگ سے)
آج گجرات پریس کلب میں شبانِ ختمِ نبوت پاکستان کے مرکزی امیر حضرت مولانا سید انیس احمد شاہ صاحب مدظلہ نے ایک اہم اور پُراثر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناموسِ رسالت کے تحفظ اور توہینِ مقدسات کے سدِباب کے لیے تنظیم کا جامع اور متفقہ منشور پیش کیا۔
​پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا سید انیس احمد شاہ صاحب نے کہا کہ سائبر توہینِ مقدسات کا مسئلہ محض مذہبی نہیں بلکہ ملک و ملت کے امن اور ملکی آئین کی بقا کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے تمام مکاتبِ فکر، جلیل القدر علماء، وکلاء، ڈاکٹرز، مفکرین اور معززین کی تائید سے درج ذیل اہم مطالبات میڈیا کے سامنے رکھے:
​قرآنی نسخوں کی حفاظت و تدفین: گستاخوں کی تحویل سے برآمد کیے گئے قرآنِ مجید کے مقدس نسخوں کی احترام و پاکیزگی کے ساتھ فوری تدفین کا اہتمام کیا جائے اور پارلیمنٹ اس پر فوری جامع قانون سازی کرے۔
​این سی سی آئی اے (NCCIA) کے دفاتر کی بحالی: این سی سی آئی اے کے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا سلسلہ فوری روکا جائے اور تمام اضلاع میں اس کے دفاتر بحال کر کے گستاخوں کے خلاف مؤثر کارروائی تیز کی جائے۔
​عدالتی فیصلہ جات پر تشویش: توہینِ مقدسات کے ثابت شدہ ملزمان کی آئے روز رہائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدلیہ کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
​متنازع بینچ سے مقدمات کی منتقلی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز اسحاق خان کے متنازع فیصلے کے بعد ان کی عدالت سے توہینِ مقدسات کے تمام کیسز کسی غیر جانبدار بینچ منتقل کیے جائیں۔
​سرکاری وکلاء کی عدم پیشی پر احتجاج: حساس مقدمات میں سرکاری وکلاء کی غیر حاضری پر شدید احتجاج کیا گیا اور اسے مقدمات کو دانستہ کمزور کرنے کی سازش قرار دیا گیا۔
​”حزب الشیطان” پر پابندی: توہینِ مقدسات اور ملحدانہ و تکفیری نظریات کی مہم چلانے والے گروہ “حزب الشیطان” پر فوری آئینی و قانونی پابندی عائد کر کے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
​سرغنہ طیب بن عارف کی گرفتاری: جعلی ضمانت پر ملک سے فرار ہونے والے مرکزی سرغنہ طیب بن عارف کو انٹرپول کے ذریعے فوری واپس لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
​خصوصی عدالتوں (Special Courts) کا قیام: توہینِ مقدسات کے کیسز کا ایک مقررہ کم سے کم دورانیے میں فیصلہ کرنے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔
​مؤثر فائر وال اور فلٹریشن: سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کی روک تھام کے لیے جدید فائر وال اور فلٹریشن سسٹم نصب کیا جائے اور تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن لازمی کی جائے۔
​فحش مواد اور بے ہودہ گروپس پر کریک ڈاؤن: سوشل و الیکٹرانک میڈیا پر فحش مواد اور بے ہودہ چیٹ گروپس چلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔
​بین الوزارتی کمیٹی: وزارتِ مذہبی امور، پی ای ایمرا، پی ٹی اے اور وزارتِ تعلیم پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر عوامی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے۔
​نصابِ تعلیم و کلچر پالیسی کی تجدید: نصابِ تعلیم اور پالیسیوں کی اصلاح کی جائے تاکہ نئی نسل کے قلوب و اذہان میں عشقِ رسول ﷺ، پاسداریِ ناموسِ رسالت اور حبِ وطنی کو راسخ کیا جا سکے۔
​فرزانہ باری کے توہین آمیز بیان پر شدید ردِعمل اور قانونی سزا کا مطالبہ:
​پریس کانفرنس کے دوران حضرت مولانا سید انیس احمد شاہ صاحب مدظلہ نے اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں خاتون فرزانہ باری کی جانب سے دیے گئے متنازع اور گستاخانہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
​انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پریس کلب میں فرزانہ باری نے آئینِ پاکستان کے حساس ترین اور ناموسِ رسالت کے محافظ قانون 295-C کو “کالا قانون” قرار دے کر اسے ختم یا تبدیل کرنے کا باقاعدہ مطالبہ کیا ہے، جو کہ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور ملکی آئین کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
​حضرت شاہ صاحب نے حکومت اور اعلیٰ عدلیہ سے پُرزور مطالبہ کیا کہ آئینِ پاکستان کے اس حساس ترین قانون کے خلاف زہر افشانی کرنے اور ملتِ اسلامیہ کی دل آزاری کرنے پر فرزانہ باری کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور اسے عبرت ناک سزا دی جائے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *