جب افسر جاگ رہا ہو تو تھانے کیوں سو رہے ہیں؟

عقلِ سلیم

جب افسر جاگ رہا ہو تو تھانے کیوں سو رہے ہیں؟

رائٹر: سید سلیم شہزاد جیلانی

فیصل آباد میں جرائم کے خلاف جنگ کوئی نئی بات نہیں، مگر ہر دور میں ایسے افسر ضرور آتے ہیں جو اپنی کارکردگی، فیصلوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف عملی اقدامات سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر نیت، حوصلہ اور اختیار موجود ہو تو پولیس کے نظام میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا بھی انہی افسران میں شمار ہوتے ہیں جن کی کارکردگی نے عوام کی توجہ حاصل کی ہے۔

منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں ہوں یا پولیس کے اندر موجود مبینہ کالی بھیڑوں کے خلاف محکمانہ ایکشن، متعدد افسران کے خلاف کارروائی اور انہیں کلوز ٹو ہیڈکوارٹر کیا جانا اس بات کا عندیہ ہے کہ ریجنل پولیس آفیسر نے صرف باہر کے جرائم پیشہ عناصر کو ہی نہیں بلکہ اپنے محکمہ کے اندر بھی احتساب کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عام شہری ایسے اقدامات کو سراہتے اور ایسے افسران کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

مگر یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:

اگر آر پی او جاگ رہا ہے تو بعض تھانے کیوں سو رہے ہیں؟

اگر ریجن کا سربراہ جرائم کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے، اگر وہ پولیس کے اندر موجود خراب عناصر کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، تو پھر کیا یہ ذمہ داری صرف آر پی او آفس تک محدود رہنی چاہیے؟

یقیناً نہیں۔

اصل امتحان تو تھانے کی سطح پر ہوتا ہے۔

عوام کا واسطہ آر پی او آفس سے روزانہ نہیں پڑتا، عوام کا واسطہ تو تھانے، چوکی، گشت کرنے والے اہلکار اور متعلقہ افسر سے پڑتا ہے۔

اگر شہری کی جائز درخواست سننے میں ٹال مٹول ہو، اگر گشت صرف کاغذوں تک محدود ہو، اگر رات کے وقت محلے کے مسائل پر کوئی توجہ نہ دے، تو پھر ایک اچھے افسر کی تمام محنت متاثر ہوتی ہے۔

سول لائن پولیس سے چند سیدھے سوال

فیصل آباد کے نیو سول لائنز اور اسلام نگر کے رہائشیوں کی شکایات بھی کسی توجہ کی منتظر ہیں۔

رات گئے تک بعض تھڑوں، بیٹھکوں، چائے کے کھوکوں اور دیگر مقامات پر لوگوں کے اجتماعات، شور شرابے اور لڈو کھیلنے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ جہاں کہیں لڈو کے نام پر جوئے کی سرگرمی ہو، وہاں معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ:

کیا رات گئے تک ہونے والی ان سرگرمیوں پر متعلقہ پولیس کی نظر ہے؟

کیا ان علاقوں میں باقاعدہ گشت ہو رہا ہے؟

کیا مشکوک مقامات کی نگرانی کی جا رہی ہے؟

اور اگر کسی مقام پر واقعی جوا، منشیات یا قانون شکنی ہو رہی ہے تو کیا وہاں قانون بلاامتیاز حرکت میں آ رہا ہے؟

یہ سوال کسی ایک فرد کے خلاف الزام نہیں بلکہ عوامی شکایت اور پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے جائز سوالات ہیں۔

لڈو کھیلنا بذاتِ خود جرم نہیں، مگر اگر اسی آڑ میں جوا ہو، شور شرابہ ہو، منشیات یا دیگر غیرقانونی سرگرمیاں ہوں تو پھر قانون کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔

عوام کو رات کا سکون بھی چاہیے

نیو سول لائنز اور اسلام نگر جیسے رہائشی علاقوں میں رات گئے تک شور شرابہ صرف ایک معمولی مسئلہ نہیں۔

ایک مزدور دن بھر محنت کے بعد گھر آتا ہے۔
ایک ملازم صبح سویرے ڈیوٹی پر جاتا ہے۔
بچے سونے کی کوشش کرتے ہیں۔
بزرگ آرام چاہتے ہیں۔

اگر گلی کے کسی کونے میں رات گئے تک شور جاری رہے تو یہ بھی شہری کے بنیادی سکون اور امن کا مسئلہ ہے۔

پولیس کی ذمہ داری صرف ایف آئی آر درج کرنا یا واردات کے بعد پہنچنا نہیں، بلکہ جرائم اور بدامنی کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنا بھی ہے۔

سکھیرا صاحب! ریڈ لائن نیچے تک پہنچائیے

سہیل اختر سکھیرا صاحب!

آپ نے اگر پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف قدم اٹھایا ہے تو عوام کی خواہش ہے کہ اس احتساب کا پیغام تھانے کی آخری سطح تک پہنچے۔

کسی اہلکار یا افسر کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک اعلیٰ افسر کی پالیسی کو نظرانداز کرے اور عوام کو اپنے رویے سے یہ احساس دلائے کہ پولیس کا نظام صرف بااثر لوگوں کے لیے ہے۔

قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

اور اگر کسی جگہ پولیس اہلکار اپنے فرائض انجام نہیں دے رہا تو اس کی جواب دہی بھی ہونی چاہیے۔

کیونکہ ایک ایماندار اور قابل افسر کی سب سے بڑی دشمنی کسی ایک مجرم سے نہیں ہوتی، بلکہ اس نظامی غفلت سے ہوتی ہے جو مجرم کو دوبارہ کھڑا ہونے کا موقع دیتی ہے۔

حکومت پنجاب کے لیے بھی پیغام

اگر حکومت پنجاب واقعی جرائم، منشیات اور پولیس کے اندر موجود بدعنوان عناصر کے خلاف سنجیدہ ہے تو اسے ایسے افسران کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سہیل اختر سکھیرا جیسے افسر کو صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ایسا ماحول، اختیار اور ذمہ داری دی جانی چاہیے جہاں وہ قانون کے مطابق بلا رکاوٹ اپنا کام کر سکیں۔

قابل افسر کو کمزور کرنا نہیں، مضبوط کرنا چاہیے۔

کیونکہ عوام کو سیاسی بیانات نہیں، عملی پولیسنگ چاہیے۔

فیصل آباد کے شہریوں کو ایسا پولیس نظام چاہیے جہاں منشیات فروش خوفزدہ ہوں، قانون شکن محتاط ہوں، پولیس اہلکار جواب دہ ہوں اور عام شہری تھانے میں جانے سے خوفزدہ نہ ہو۔

سہیل اختر سکھیرا صاحب نے جو اچھی بنیاد قائم کی ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے مزید مضبوط کیا جائے۔

آر پی او کا حکم صرف آر پی او آفس کی فائل تک محدود نہ رہے؛
اس کا اثر ہر تھانے، ہر چوکی اور ہر گلی کے شہری کو محسوس ہونا چاہیے۔

اور اگر نیو سول لائنز اور اسلام نگر کے رہائشی رات گئے ہونے والے شور، مشکوک اجتماعات اور مبینہ جوئے کی شکایات کر رہے ہیں تو ان شکایات کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے جس سنجیدگی سے بڑے جرائم کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

کیونکہ:

امن صرف بڑے مجرم کو پکڑنے سے نہیں آتا،
امن اس وقت آتا ہے جب عام شہری اپنے گھر میں سکون سے سو سکے۔

سید سلیم شہزاد جیلانی
رائٹر — عقلِ سلیم

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *