حیدراباد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے سندھ بھر میں اج جمعہ 16 اکتوبر کو بلیک ڈے منانے کا اعلان کر دیا 27 ڈاکٹرز کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے پر ڈاکٹر تنظیموں کا شدید تحفظات کا اظہار سندھ بھر کے ہسپتالوں میں بازوں پر سیاہ پٹی باندھ کر ڈیوٹی انجام دی جائیں گی یہ اعلان پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے صدر ڈاکٹر نیاز ببر نے ینگ ڈاکٹر ایسوسییشن سندھ کے صدر روشن علی چانڈیوں کے ہمراہ حیدراباد پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈاکٹر فرزانہ شیخ میر افضل کاشف شیخ اور سلمان میمن بھی موجود تھے ڈاکٹر نیاز ببر نے کہا کہ ڈینگی کے ایک پرانے کیس میں ہلاکت پر عدالت نے یہ احکامات جاری کیے ہیں جس سے ڈاکٹر میں شدید تشویش پائی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ایک مریض تقریبا 15 روز تک مختلف مقامات اور نجی ہسپتالوں میں زیر علاج رہنے کے بعد تشویش ناک حالت میں سیول اسپتال حیدراباد منتقل کیا گیا ڈاکٹرز نے انتھک جدوجہد اور بروقت طبی امداد پہنچا کر مریض کی زندگی بچانے کی بھرپور کوشش کی تاہم وہ جانور نہ ہو سکا انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی تمام تنظیمیں عدلیہ اور عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہیں تاہم قانونی اور ائینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کسی بھی فیصلے کو چیلنج کرنا ان کا حق ہے ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کمیشن نے ڈاکٹرز کو بری الذمہ قرار دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے احتجاج کیا جائے گا اور مریضوں کے علاج معالجے اور طبی خدمات سے متعلق پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا ڈاکٹر تنظیموں کا مقصد کسی ادارے یا عدلیہ سے تصادم نہیں بلکہ ڈاکٹرز کے لیے قانونی تحفظ منصفانہ کاروائی اور محفوظ پیشوارانہ ماحول کو یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر کمیونٹیز کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ڈاکٹرز بلا خوف و خطر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے مریضوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھ سکیں انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ بڑی تعداد میں تشویش ناک حالت میں مریض لائے جاتے ہیں طبی غفلت سے متعلق شکایات کی جانچ متعلقہ قوانین اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہیلتھ کیئر کمیشن اور دیگر مجاز فورمز کے ذریعے شفاف انداز میں کی جائے اج بلیک ڈے میں ینگ ڈاکٹر ایسوسییشن سندھ پاکستان میڈیکل ایسوسییشن اور ٹیچر ایس او سی ایشن بھی بلیک ڈے دیر میں حصہ لیں گی انہوں نے کہا کہ 27 ڈاکٹرز کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے ہی ڈاکٹرز عدم تحفظ کا شکار ہونے کے باعث اپنی سروسز باہر ممالک دینے کے لیے تیار ہو رہے ہیں گزشتہ سالوں میں ڈھائی لاکھ ڈاکٹرز بننے کی تعداد میں ایک لاکھ تک کی کمی واقعہ ہو چکی اور نوجوان ڈاکٹرز کے شعبے میں داخلہ لینے سے گریز کر رہے ہیں جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے ہمیں اس جانب بھی سوچنا ہوگا اور ہسپتالوں میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو تحفظ فراہم کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ وہ ہسپتالوں میں انے والے مریضوں کی بے خوف تیمارداری اور انہیں طبی امداد فراہم کر سکیں ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ہر انے والے مریض کی زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ڈاکٹرز کا کام طبی امداد مہیا کرنا ہوتا ہے جو ہسپتال کے ڈاکٹر نے ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے جس کی گواہی ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے
Posted inکراچی