پاکستان حالت جنگ میں ہے:
اگر اپنے ملک کو لیبیا بننے سے بچانا ہے تو متحد رہئے،یہ صورتحال رکنے والی نہیں۔ افغانستان میں مسلسل دہشت گرد جمع کیے جا رہے ہیں۔ شام سے بھی داعش کے دہشتگرد وہاں منتقل کیے گئے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے خلاف جنگ کا خطرہ حقیقی ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ جنگ طالبان نہیں بلکہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگرد لڑ رہے ہیں۔ جس طرح شام میں کرائے کے دہشتگردوں کو ہ،اروں ڈالر تنخواہ ملتی تھی اور بہترین اسلحہ ملتا تھا اسی طرز پر اب افغانستان کا محاذ بنایا جا رہا ہے۔ وہاں غربت اور بے بسی اتنی ہے کہ پیسوں کے عوض لڑنے والے آسانی سے مل جاتے ہیں۔ جب ایک جنگجو کو ہزاروں ڈالر ملیں اور ریاستی فوجی کو اس سے بہت کم، تو پھر دہشتگردوں کی کمی نہیں رہتی۔
اس حقیقت کو نظرانداز نہ کیجئے کہ پاکستان کے خلاف جنگ مسلط کی جا چکی ہے۔ اس لئے کسی خوش فہمی یا ہچکچاہٹ کی گنجائش نہیں۔ جنگ اگر مسلط ہو تو دفاع پوری قوت سے کیا جاتا ہے۔ تذبذب یا پیچھے ہٹنا تباہ کن ثابت ہوگا۔
اس وقت سب سے بڑی ضرورت قومی یکجہتی ہے۔ عوام کو اپنی فوج اور ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر اندر سے کمزوری ہوئی تو دشمن کو فائدہ ہوگا۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاک فوج زندہ باد 🇵🇰
