

(نیوز ڈیسک)
امریکہ ایران کی حالیہ جنگ نے پوری دنیا کے ممالک کو شدید بحرانوں میں دھکیل رکھا ہے خصوصاً تیل کی قیمتوں نے ہر ملک میں ہوشربا اضافے کا سبب پیدا کیا ہے، تیل کے سپلائرز یعنی گلف کے ممالک اپنے خریداروں کو تیل کی فراہمی کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
دنیا کے بڑھتے ہوئے موجودہ بحرانوں کے حل کی تلاش کے لیے بین الاقوامی و ملکی ماہرین کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنے تجزیات اور نظریات پیش کیے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی انفراسٹرکچر کے ماہر مستند اور تجربہ کار انجینئیر (یاد رہے کہ CPEC منصوبہ بھی ڈاکٹر صادق علی سید کی ذہنی تخلیق ہے) ڈاکٹر صادق علی سید نے اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
1948 میں، ایم کنگ ہبرٹ نے یہ تصور پیش کیا کہ جیواشم ایندھن کے وسائل محدود ہیں۔
اور کمی کے تابع. آج یہ حقیقت عالمی سطح پر تیزی سے جھلک رہی ہے۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جہاں توانائی اور قدرتی وسائل پر مسابقت
عدم استحکام کو آگے بڑھا رہا ہے۔
ایک ہی وقت میں، عالمی تجارتی نظام میں خلل کا خطرہ رہتا ہے، جبکہ
اقتصادی عدم مساوات تمام خطوں میں برقرار ہے۔ یہ چیلنجز فوری طور پر نمایاں کرتے ہیں۔
ایک نئی تمثیل کی ضرورت ہے جو وسائل پر مسابقت کی جگہ لے
رابطے، تجارت اور مشترکہ خوشحالی کے ذریعے تعاون۔
پس منظر اور تصور کی اصل
2003 میں، مصنف نے ایک اسٹریٹجک تصور تیار کیا جس کا مقصد محفوظ، موثر،
اور اقتصادی طور پر قابل عمل تجارتی راہداری، سمندری تجارت میں خطرات کے جواب میں
اور علاقائی بنیادی ڈھانچے کے نظام میں ناکاریاں۔ اس تحقیق نے ریلوے کا تجزیہ کیا۔
80 سے زیادہ ممالک میں نظام اور اس کے ذریعے تبدیلی کی تجویز پیش کی۔
مربوط ریل اور لاجسٹکس نیٹ ورکس۔
تصور میں شامل ہیں:
● گوادر پورٹ سے منسلک پورے پاکستان میں دوہری ریلوے کوریڈورز کی ترقی
● وسط ایشیائی ریاستوں، چین اور یورپ کی طرف توسیع
● کمزور سمندری راستوں کے لیے محفوظ زمین پر مبنی متبادل کی تخلیق
اس وژن کے عناصر بعد میں چین پاکستان جیسی ترقیات کے ساتھ منسلک ہوئے۔
2013 میں اقتصادی راہداری، مربوط کی طویل مدتی مطابقت کا مظاہرہ
تجارتی بنیادی ڈھانچہ.
مسئلہ
موجودہ عالمی نظام کو تین باہم مربوط چیلنجز کا سامنا ہے:
1. وسائل سے چلنے والی تناؤ
محدود جیواشم ایندھن پر انحصار جغرافیائی سیاسی مسابقت کو آگے بڑھا رہا ہے۔
2. نازک تجارتی راستے
میری ٹائم سپلائی چینز جغرافیائی سیاسی خطرات کی وجہ سے رکاوٹ کا شکار رہتی ہیں۔
2. اقتصادی عدم توازن
قرض سے چلنے والے نظام اور مواقع تک غیر مساوی رسائی طویل مدتی عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔
مجوزہ حل: بین البراعظمی امن تجارتی لنک (IPTL)
آئی پی ٹی ایل ایک اسٹریٹجک فریم ورک ہے جو تجارت کے ذریعے امن کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے،
کنیکٹوٹی، اور اقتصادی باہمی انحصار۔ یہ ایشیا کو جوڑنے والے نیٹ ورک کا تصور کرتا ہے،
یورپ، وسطی ایشیا، اور اس سے آگے مربوط بنیادی ڈھانچے کے ذریعے۔
اس تصور کی ایک اہم خصوصیت مسلسل زمینی رابطے کی ترقی ہے،
بڑے علاقوں میں ریل اور سڑک کے نیٹ ورک سمیت۔ اسٹریٹجک مختصر فاصلہ
روابط — جیسے آبنائے ہرمز کے پار — رابطے کو مزید بڑھا سکتے ہیں،
جیسا کہ یورپ نے برطانیہ اور فرانس کو اس کے ذریعے جوڑا
چینل ٹنل، تاریخی دشمنیوں کو اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنا۔
یہ ایک ثابت شدہ اصول کی عکاسی کرتا ہے: وہ خطہ جو ایک ساتھ تجارت کرتے ہیں۔
امن میں رہیں.
کلیدی اجزاء
1. مربوط بین البراعظمی تجارتی نیٹ ورک
● پورے ایشیا اور یورپ میں آپس میں جڑے ہوئے سڑک اور ریل کوریڈورز
● چین سے جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء، مشرق وسطیٰ اور یورپ سے روابط
● جنوب مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا کی طرف ممکنہ توسیع
● ٹرانزٹ کا وقت، لاگت اور خطرہ کم ہوا۔
2. توانائی کی منتقلی اور پائیداری
● تجارتی راہداریوں کے اندر قابل تجدید توانائی کے نظام کا انضمام
● وکندریقرت، اسٹینڈ اکیلے قابل تجدید توانائی صنعتی کی ترقی
جائیدادیں
● جدید تصورات کا اطلاق جیسے کہ SAFT اور N’POWER برائے
مسلسل توانائی کی فراہمی
● جیواشم ایندھن اور لمبی دوری کے ٹرانسمیشن سسٹم پر انحصار کم کرنا
3. تجارتی مرکز امن فریم ورک
● اصول کو اپنانا: “تنازعات پر تجارت”
● اقتصادی باہمی انحصار کو فروغ دینا
● سے منسلک دو طرفہ اور کثیر جہتی تعاون کے معاہدوں کی حوصلہ افزائی
تجارت
4. اخلاقی اور پائیدار اقتصادی نظام
● منصفانہ، اثاثوں کی حمایت یافتہ، اور رسک شیئرنگ مالیاتی ماڈلز کا فروغ
● نظامی قرض کے دباؤ میں کمی
● طویل مدتی اقتصادی اور ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ صف بندی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابابیل خیر البشر موومنٹ کے چیئرمین اسد الحق قریشی نے کہا کہ جنگیں کبھی بھی کسی بھی مسائل ک،ا معاملات کا، مشکلات کا یا تنازعات کا حل ثابت نہیں ہوئیں۔
جنگوں سے صرف ہمیشہ جانی اور مالی نقصان ہی پہنچتا ہے جیسا کہ حالیہ ایران اور امریکہ کی جنگ میں ساری دنیا کی معیشت بھی متاثر ہوئی اور مالی طور پر بھی بیشتر ممالک کو انتہائی شدید نقصانات برداشت کرنے پڑے۔ جبکہ اس جنگ کا بظاہر کوئی واضح مقصد تھا ہی نہیں صرف اور صرف اسرائیل کی ناجائز ریاست کی ذاتی خواہش پر امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اس جنگ کو ایران پر مسلط کیا اور اسرائیل کے مذہبی جذبات کو تسکین پہنچانے کے لیے اور مسلم امہ کے اتحاد کو توڑنے کے لیے گلف کے مسلم ممالک کو اس میں زبردستی شامل کر دیا گیا اور انہیں شدید نقصانات پہنچائے گئے اور امت مسلمہ میں اختلافات کو بڑھاوا دیا گیا اور اس کے اثرات دنیا کے دیگر پر امن ممالک میں بھی ان کی معیشت پر اثرانداز ہوئے، دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا ہوا تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا جس سے دنیا پھر کے تمام ممالک کی عوام اور حکومتیں مشکلات کا شکار ہوئے بالاخر حل مذاکرات کے ٹیبل پر ہی ایا اور اس وقت پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب نے اور دیگر چند ممالک کے سربراہان مملکت نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس بے مقصد جنگ کو روکنے کے لیے جنگ بندی کا اور معاہدے کا سلسلہ جو شروع کیا ہے اور انشاءاللہ اللہ تعالی انہیں کامیاب بھی فرمائے گا تمام جنگوں کا اخری حل ہمیشہ مذاکرات ہی ہوتے ہیں جب کہ دنیا کو اس وقت معاشی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ غیر مستحکم کرنے کے لیے اسلحے کا استعمال، بارود کا استعمال اور جنگوں کے ذریعے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ابابیل خیرالبشر موومنٹ کے چیئرمین اسد الحق قریشی نے اپنا موقف و نظریہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ:
امریکہ ایران کی حالیہ جنگ نے نہ صرف پوری دنیا کے ممالک کو شدید بحرانوں میں دھکیل رکھا ہے جس کے سبب بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور تیل کی پیداوار بھی شدید متاثر ہوئی، تیل کے زخائر کو آگ میں جھونک دیا گیا اور لاکھوں بیرل خام تیل نظر آتش کیا گیا۔
تیل کے سپلائرز یعنی گلف کے ممالک اپنے خریداروں کو تیل کی فراہمی کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
چائنا بھی تیل کا بڑا خریدار ان حالات میں پریشانی میں مبتلا ہے۔ سب کی نظریں آبنائے ہرمز پہ بڑی ہیں جو کہ کلی طور پر ایران کے مرہون منت ہے۔ اور دنیا تیزی سے تیسری عالمگیر جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے ہر ملک کی معیشت داؤ پہ لگی ہوئی ہے اور سب کی عوام مہنگائی کا شکار ہو رہی ہے۔
تیل کی سپلائی صرف سمندری راستوں پہ انحصار کرتی ہے کسی کے پاس زمینی راستہ میسر نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزارنا تیل کی قیمتوں میں اور عالمی منڈی پہ بھاری پڑ رہا ہے۔
گلف کے مسلم ممالک آپسی اختلافات کے سبب مسلم امہ بھی مسائل کا شکار ہے۔
لیکن اگر تمام بڑے مسلم ممالک اور چائینا مل کر ایک نیا زمینی راستہ ریلوے ٹریک یا جدید سڑک (سڑک پہ ٹرالرز کے لیے ڈیزل کا خرچ زیادہ ہو سکتا ہے اس لیے چائینا کی بلٹ ٹرین زیادہ مناسب رہے گی) کیونکہ راستوں میں پیٹرول پمپس کا اضافی خرچ بھی کرنا پڑے گا، اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی سعودی عرب و چائینا دونوں کے پاس موجود ہے) اور فنڈز کی کمی بھی نہیں ہے اس منصوبے کو انتہائی تیزی سے عمل جامہ پہنایا جا سکتا ہے) یہ ٹریک یا روڈ نہ صرف تیل کی سپلائی میں انتہائی مددگار ہو گا بلکہ چائنا گلف کی مارکیٹ میں اپنی ٹریڈ کو بھی بہت مضبوط کر سکتا کیے اور انسانی مسافروں کی بھی آمد و رفت کے سستے زرائع میسر ہو سکتے ہیں۔ اور اس کا دوسرا فائیدہ یہ بھی ہے کہ ایران سمیت دیگر ممالک بھی ٹال ٹیکس یا راہداری کے نام پہ کثیر سرمایہ حاصل کر سکتے ہیں اور مسلم امہ کے ممالک کے آپسی تعلقات میں بھی بہتری پیدا ہو گی اور تجارت کے راستے بھی پیدا ہوں گے۔
چائنا بھی تیل کا بڑا خریدار ان حالات میں پریشانی میں مبتلا ہے۔ سب کی نظریں آبنائے ہرمز پہ ہیں جو کہ کلی طور پر ایران کے مرہون منت ہے۔ حالیہ بیانات میں ایران نے دیگر سمندری راستوں سے بھی تیل کی ترسیلات کو روکنے کی دھمکی دے رکھی ہے
جس کے باعث دنیا تیزی سے تیسری عالمگیر جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے ہر ملک کی معیشت داؤ پہ لگی ہوئی ہے اور سب کی عوام مہنگائی کا شکار ہو رہی ہے۔
تیل کی سپلائی صرف سمندری راستوں پہ انحصار کرتی ہے کسی کے پاس باقاعدہ زمینی راستہ میسر نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزارنا اور اس کے نافظ کردہ ٹال ٹیکس و دیگر اضافی اخراجات، تیل کی قیمتوں میں اور عالمی منڈی پہ بھاری پڑ رہا ہے۔
گلف کے مسلم ممالک آپسی اختلافات کے سبب مسلم امہ بھی مسائل کا شکار ہے۔
لیکن اگر تمام بڑے مسلم ممالک اور چائینا مل کر ایک نیا زمینی راستہ ریلوے ٹریک یا جدید سڑک (سڑک پہ ٹرالرز کے لیے ڈیزل کا خرچ زیادہ ہو سکتا ہے اس لیے چائینا کی بلٹ ٹرین زیادہ مناسب ذریعہ ہے) کیونکہ سڑک کے راستوں میں پیٹرول پمپس کا اضافی خرچ بھی کرنا پڑے گا، اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی سعودی عرب و چائینہ دونوں کے پاس موجود ہے) اور فنڈز کی کمی بھی نہیں ہے اس منصوبے کو انتہائی تیزی سے عمل جامہ پہنایا جا سکتا ہے) یہ ٹریک یا روڈ نہ صرف تیل کی سپلائی میں انتہائی مددگار ہو گا بلکہ چائنہ گلف کی مارکیٹ میں اپنی ٹریڈ کو بھی بہت مضبوط کر سکتا کیے اور انسانی مسافروں کی بھی آمد و رفت کے سستے زرائع میسر ہو سکتے ہیں۔ اور اس کا دوسرا فائیدہ یہ بھی ہے کہ ایران سمیت دیگر ممالک بھی ٹال ٹیکس یا راہداری کے نام پہ کثیر سرمایہ حاصل کر سکتے ہیں اور مسلم امہ کے ممالک کے آپسی تعلقات میں بھی بہتری پیدا ہو گی اور تجارت کے راستے بھی پیدا ہوں گے۔
اس کے لیے سعودیہ سے آغاز ہو گا اور براستہ کویت، عراق، ایران، عمان، اور گوادر، سے چائنہ کا روٹ مرتب کیا سکتا ہے۔
آخر میں ممبران نے اس عظم کا اظہار بھی کیا کہ وہ ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اس کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات، تکنیکی معاونت اور دیگر خدمات فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
جس کے لیے فیڈ بیک اور رائے عامہ وصول ہونے کے بعد اگلے اجلاس میں مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
فیڈ بیک، سوالات اور تجاویز کے لیے واٹس ایپ نمبر923122717987+ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
