
*تحریر: ثاقب محمود اعوان*
**قربانی کی روح اور صفائی کا شعور**
عید الاضحیٰ محض جانور قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے اندر ایثار، نظم، احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی شعور کا ایک مکمل پیغام رکھتی ہے۔ قربانی کے ان مبارک ایام میں جہاں ہر طرف سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کا منظر دکھائی دیتا ہے، وہیں صفائی اور ماحول کی پاکیزگی بھی ایک مہذب معاشرے کی پہچان بن جاتی ہے۔
اس مرتبہ حکومت پنجاب کے “ستھرا پنجاب” پروگرام نے کھاریاں شہر اور اس کے گردونواح میں جس انداز سے انتظامات کیے، وہ قابلِ تحسین ہیں۔ عید سے کئی روز قبل ہی گھر گھر آلائشوں کے لیے شاپنگ بیگز کی تقسیم، مختلف مقامات پر خصوصی اسٹالز کا قیام، آلائشیں جمع کرنے کے لیے پوائنٹس کی نشاندہی اور مسلسل آگاہی مہم اس امر کا ثبوت تھی کہ اگر نیت اور منصوبہ بندی درست ہو تو عوامی خدمت کے خوبصورت باب رقم کیے جا سکتے ہیں۔
شدید گرمی، جھلسا دینے والے موسم اور چالیس ڈگری سے تجاوز کرتے درجہ حرارت میں ستھرا پنجاب کے ورکرز نے جس محنت، استقامت اور خاموش خدمت کا مظاہرہ کیا، وہ معاشرے کے ان گمنام کرداروں کی یاد دلاتا ہے جو شور نہیں کرتے مگر شہروں کی رونق اور پاکیزگی انہی کے دم سے قائم رہتی ہے۔ دن رات جاری کلین اپ آپریشن، جراثیم کش اسپرے اور عرقِ گلاب کے چھڑکاؤ نے فضا کو نہ صرف صاف رکھا بلکہ یہ احساس بھی جگایا کہ صفائی صرف انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی تہذیب کا حصہ ہے۔
تاہم اس تمام تر کوشش کے باوجود یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آئی کہ بعض شہریوں نے قربانی کی آلائشیں مقررہ مقامات پر دینے کے بجائے شہر کے واحد سیوریج نالے، خالی پلاٹوں اور دیگر غیر مناسب جگہوں پر پھینک دیں۔ یہ رویہ صرف بداحتیاطی نہیں بلکہ اجتماعی احساسِ ذمہ داری سے غفلت کی علامت بھی ہے۔ قومیں صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے سے مہذب نہیں ہوتیں بلکہ اجتماعی شعور، نظم و ضبط اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے سے ترقی کی منزلیں طے کرتی ہیں۔
قابلِ ستائش امر یہ ہے کہ ستھرا پنجاب کے ورکرز نے ان علاقوں کو بھی فوری طور پر صاف کر کے اپنی ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی۔ حقیقت یہی ہے کہ معاشرے کی خوبصورتی صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے شہری شعور، تعاون اور ذمہ داری کا احساس بھی ناگزیر ہے۔
عید قربان ہمیں صرف قربانی دینا نہیں سکھاتی بلکہ یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحول، اپنے شہر اور اپنی اجتماعی زندگی کو بھی پاکیزہ رکھا جائے۔ کیونکہ صاف شہر ہی مہذب معاشروں کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔