
بھارت نے اپنی فضائی دفاعی حکمتِ عملی میں خاموشی کے ساتھ مگر ایک بڑی تبدیلی کا آغاز کر دیا ہے۔ تازہ دفاعی رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ نے اپنے زیادہ تر S-400 فضائی دفاعی نظام پاکستان 🇵🇰 کے محاذ کی جانب منتقل کر دیے ہیں، جبکہ چین 🇨🇳 کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر نسبتاً کم توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ تبدیلی معمولی نہیں ہے۔ اگر واقعی بھارت نے اپنے تقریباً پینسٹھ فیصد S-400 اسکواڈرن پاکستان کی سرحد کے قریب تعینات کر دیے ہیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ نئی دہلی کی اصل دفاعی تشویش مغربی محاذ پر مرکوز ہے۔ پنجاب، راجستھان اور گجرات جیسے علاقوں میں S-400 کی موجودگی پاکستان کے لیے ایک واضح تزویراتی پیغام سمجھی جا رہی ہے۔
S-400 کوئی عام فضائی دفاعی نظام نہیں۔ بھارت میں اسے “سدرشن چکر” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نظام مختلف بلندیوں اور فاصلے پر موجود جنگی طیاروں، ڈرونز، کروز میزائلوں اور بعض بیلسٹک خطرات کا سراغ لگانے اور انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بعض میزائلوں کی رینج 400 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جس کے باعث سرحد کے قریب تعیناتی پاکستان کی فضائی حدود کے ایک بڑے حصے کو اس کی نگرانی کی زد میں لا سکتی ہے۔
🇮🇳 بھارت نے 2018 میں روس کے ساتھ تقریباً 5.4 ارب ڈالر مالیت کے پانچ S-400 اسکواڈرن خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے پہلے تین نظام فعال ہو چکے ہیں، جبکہ چوتھے اسکواڈرن کی آمد کو مغربی محاذ پر بھارتی فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ پانچواں نظام بھی مستقبل قریب میں مکمل شمولیت کے لیے متوقع بتایا جاتا ہے۔
بھارتی دفاعی حلقے اسے معمول کی فوجی تعیناتی اور حکمتِ عملی میں ردوبدل قرار دے رہے ہیں، لیکن خطے کی صورتحال کچھ اور اشارہ دیتی ہے۔ جب کوئی ملک اپنے سب سے مہنگے اور جدید فضائی دفاعی نظام کا بڑا حصہ ایک ہی محاذ پر تعینات کرے تو یہ صرف دفاعی تیاری نہیں بلکہ ایک تزویراتی پیغام بھی ہوتا ہے۔
پاکستان 🇵🇰 کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اس کا جواب صرف روایتی فضائی قوت سے دیا جائے گا یا ایک جامع جوابی حکمتِ عملی کے ذریعے؟ کیونکہ S-400 جیسے نظام کے مقابلے میں صرف جدید لڑاکا طیارے کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے الیکٹرانک وارفیئر، اسٹینڈ آف ہتھیار، کم بلندی پر پرواز کرنے والے کروز میزائل، ڈرون جھنڈ (Drone Swarms)، فریب کار نظام (Decoys) اور نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز جیسی مکمل صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کی دفاعی سوچ میں تیزی سے تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ فتح سیریز کے میزائل، مختلف ڈرون پروگرام، جدید فضائی جنگی پلیٹ فارمز اور ممکنہ پانچویں نسل کے اسٹیلتھ طیاروں پر ہونے والی گفتگو اسی بڑی تزویراتی مسابقت کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ بھارت S-400 کے ذریعے فضائی راستے کو محدود کرنا چاہتا ہے، لیکن جدید جنگ میں ہر دفاعی ڈھال کا کوئی نہ کوئی توڑ موجود ہوتا ہے۔
آج کی جنگ صرف میزائل بمقابلہ میزائل نہیں رہی۔ اصل مقابلہ سینسرز، ریڈارز، جامنگ، فریب کاری، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، ڈرونز اور درست وقت پر درست حملے کی صلاحیت کا ہے۔
🇮🇳 بھارت نے اپنی دیوار بلند کر لی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان 🇵🇰 اس دیوار کے اوپر سے گزرتا ہے، اس کے نیچے سے راستہ نکالتا ہے یا پھر اسے اندھا کرکے غیر مؤثر بنا دیتا ہے۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاک فوج پائندہ باد 🇵🇰