چین نے پاکستان کو اپنا جدید ترین سپر ریپڈ گن ڈیفنس سسٹم **LD-3000** فراہم کر دیا ہے۔ یہ نظام انتہائی تیز رفتاری سے فائرنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دفاعی حکمت عملی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ نظام ایک منٹ میں **بارہ ہزار راؤنڈ** فائر کر سکتا ہے، یعنی یہ فی سیکنڈ 200 سے زائد گولیاں داغ سکتا ہے۔ اس تیز رفتاری کی بدولت یہ نظام دشمن کے ڈرون، میزائلوں اور دیگر ہوائی حملوں کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا سکتا ہے۔
LD-3000 کو خاص طور پر قریبی فاصلے تک مار کرنے والے دفاعی نظام (CIWS) کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نظام نہ صرف زمینی تنصیبات بلکہ حساس فوجی اور اسٹریٹجک مقامات کی حفاظت کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی گولیاں اتنے زیادہ حجم اور رفتار سے داغی جاتی ہیں کہ وہ ہوا میں ایک دیوار جیسی رکاوٹ پیدا کر دیتی ہیں، جس سے آنے والا کوئی بھی خطرہ فوری طور پر تباہ ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کو یہ جدید نظام دینا دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی ایک واضح علامت ہے۔ یہ نظام پاکستان کی ائیر ڈیفنس صلاحیتوں کو خاص طور پر ڈرونز اور کروز میزائلوں کے خلاف مزید موثر بنائے گا۔
اگرچہ ابھر تک اس نظام کی پاکستان میں تعیناتی کے حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، لیکن فوجی حلقوں میں اسے ایک بہت بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
—
اگر آپ چاہیں تو میں اس میں یہ بھی شامل کر سکتا ہوں کہ یہ نظام عام طور پر بحری جہازوں پر نصب کیا جاتا ہے یا پھر زمینی ورژن کہاں استعمال ہوتا ہے۔