مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گئے

رپورٹ سٹی ایڈیٹر ڈاکٹر عبدالرحیم کراچی ۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گئے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ صاحب
انسپکٹر جنرل سندھ جاوید عالم اوڈھو صاحب ایک اور حوا کی بیٹی کرن خان تیزاب گردی کا شکار ہو چکی ہے ۔
سول ہسپتال کے برنس وارڈ میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا بے بس مجبور خاتون کرن خان آپ کی آمد کی منتظر ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ زمان ٹاون کے علاقے شاہ عبدالطیف بھٹائی کالونی کراسنگ کے سیکٹر B الحرم مول بلڈنگ کی رہائیشی حوا کی بیٹی دو بچوں کی ماں *کرن خان* تیزاب گردی کا شکار ہو چکی ہے۔ مضروب *کرن خان* نے بتایا کہ گزشتہ اتوار کو تقریبا ساڑھے چار بجے *علی نامی شخص نے اپنی بیوی بانو* کے کہنے پر مجھ پر تیزاب پھینک دیا ۔ مجھ پر تیزاب جب پھینکا گیا تو میں درد سے چیختی چلاتی لفٹ کے قریب آکر گر گئ جس پر کثیر تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور مجھے زخمی حالت میں سول ہسپتال روانہ کر دیا گیا جبکہ زمان ٹاون کے پولیس کے افسران و اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ کر موقع پر جمع ہونے والوں سے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد تاحال لاپتہ ہیں۔
زمان ٹاؤن پولیس کے لاپتہ ہونے پر میں نے اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کروادیا ہے تاکہ میری موت کے بعد پولیس افسران گہری نیند سے بیدار ہو جائیں۔
کرن خان نے مزید روتے ہوئے بتایا کہ مجھ سے آج 10 محرم الحرام تک زمان ٹاون پولیس کے کسی بھی افسر نے کسی بھی قسم کا رابطہ یا بیان لینے کی زحمت گوارا نہیں کی اور 7 روز گزرنے کے باوجود بھی آج نویں محرم تک FIR درج کرنے کا پولیس کے نڈر ، ایماندار افسران نے سوچا بھی نہیں ہے اسی کی بڑی وجہ
*کیونکہ میں ایک مجبور تنہا غریب خودار ہوں*
مجھ پر ہونے والے ظلم پر *پولیس کے افسران* خاموش تماشائی کیوں بنیں ہوئے ہیں ؟؟ کیا ملکی قوانین میں غریب ہونا کسی جرم کے زمرے میں آتا ہے ؟ دو بچوں کی ماں خاتون کرن خان نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عورتوں کے حقوق کی تنظیموں سے سوال کیا کہ آپ کی خاموش کیوں ہیں؟ آپ کی معنی خیز خاموشی سے صاف پتہ چلتا ہے کہ دال پوری ہی کالی ہو چکی ہے اور آپ غریب خواتین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں کیوں؟
جبکہ تیزاب گردی کا شکار ہونے والی غریب بیوہ *کرن خان* نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، انسپکٹر جنرل سندھ جاوید عالم اوڈھو صاحب سے درخواست کی کہ مجھ پر تیزاب پھینکنے والے علی اور بانو کے خلاف فوری طور مقدمہ درج کرنے کے احکامات صادر فرمائے جائے اور ملوث علی اور بانو کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے تاکہ کوئی اور حوا کی بیٹی تیزاب گردی کا شکار نہ جائے۔مذکورہ بالا افسوسناک واقعے کےحوالے سے تھانہ زمان ٹاون کے ایس ایچ او انسپکٹر ایاز خان کے مکمل علم میں ہونے کے باوجود بھی مقدمہ درج تک نہیں ہو سکا اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *