قلم اور قیادت: سچائی کے پاسبانوں کا ایک روشن سنگم

کھاریاں (شاہد بیگ سے )قلم اور قیادت: سچائی کے پاسبانوں کا ایک روشن سنگم

قلم، وہ مقدس امانت ہے جو صاحبِ نظر افراد کو ودیعت کی جاتی ہے۔ اسی امانت کا پاسبان بن کر جب اہل قلم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں تو معاشرے میں سچائی کی ایک نئی کرن بیدار ہوتی ہے۔ صاحبزادہ پیر عثمان عزیز قادری کی میزبانی میں منعقدہ تقریب “قلم اور قیادت” اسی سفرِ حق کی ایک درخشاں کڑی تھی۔ یہ تقریب محض ایک رسمی نشست نہیں تھی، بلکہ یہ صحافت کے ان ستونوں کا اجتماع تھا جو گلی کوچوں سے لے کر ایوانوں تک سچ کی بازگشت بنتے ہیں۔
اس علمی و ادبی محفل میں کھاریاں، گلیانہ، سرائے عالمگیر، لالہ موسیٰ اور دولت نگر کے پریس کلبس کے کہنہ مشق اور متحرک صحافیوں نے شرکت کرکے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ صحافیوں کے چہروں پر موجود عزم اور الفاظ میں چھپی ہوئی تڑپ یہ گواہی دے رہی تھی کہ چراغِ صحافت ابھی بجھا نہیں ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی، سابق تحصیل ناظم چوہدری ندیم اصغر کائرہ نے اپنے مدلل اور جوشیلے خطاب سے سماں باندھ دیا۔ انہوں نے صحافت کے کٹھن راستوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا:
”صحافی صرف خبر کا پیغامبر نہیں ہوتا، بلکہ وہ معاشرے کا ضمیر ہوتا ہے۔ جب قلم، حق اور سچ کی گواہی دیتا ہے تو یہ کسی بڑے سے بڑے جابر کے ایوان کو بھی متزلزل کر سکتا ہے۔ صحافت کا تقدس اسی بات میں مضمر ہے کہ قلم کار اپنی تحریر کو بیچنے کے بجائے اسے سچائی کی قیمت پر فروخت کرے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور میں صحافیوں کو جس طرح کی چیلنجز کا سامنا ہے، وہاں ان کا استقلال ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے تمام شرکاء کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور صحافت کے شعبے میں ان کی قربانیوں کو معاشرتی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
میزبانِ محفل صاحبزادہ پیر عثمان عزیز قادری نے اپنی روایتی فراست اور خلوص سے تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ “قلم اور قیادت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر قیادت کے پاس قلم کی بصیرت نہ ہو تو معاشرہ اندھیروں میں بھٹک جاتا ہے، اور اگر قلم کے پاس قیادت کا حوصلہ نہ ہو تو سچ بولنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔”
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس حسین ملاقات کو ایک یادگار سنگِ میل قرار دیا۔ تمام صحافیوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو اسی دیانت اور جرأت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور سچائی کی شمع کو ہر حال میں روشن رکھیں گے۔ ایسی محفلیں یقیناً صحافتی برادری میں باہمی ربط و ضبط اور نئی نسل کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *