ی توبہ؛ خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کا وق

# اجتماعی توبہ؛ خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کا وقت

کبھی کبھی قوموں کی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جب انہیں رک کر اپنے سفر کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ ہم کہاں سے چلے تھے، کہاں پہنچ گئے ہیں اور جس منزل کا خواب دیکھا تھا وہ اب بھی ہمارے سامنے ہے یا ہم راستے ہی میں اپنی سمت کھو بیٹھے ہیں۔ آج پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے شاید ہمیں بھی ایسے ہی ایک اجتماعی توقف، اجتماعی محاسبے اور اجتماعی بیداری کی ضرورت ہے۔ ہم اپنی مشکلات کے لیے کبھی حکمرانوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں، کبھی اداروں کو، کبھی سیاست کو، کبھی معیشت کو اور کبھی ایک دوسرے کو، لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنے کردار، اپنے رویوں اور اپنی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیں۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں کے گریبان میں جھانکنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور خود سے پوچھیں کہ ہماری اجتماعی زندگی میں وہ کون سی برائیاں داخل ہو چکی ہیں جنہوں نے ہمارے اخلاقی، معاشرتی اور انسانی وجود کو اندر سے کمزور کر دیا ہے۔

ہم کرپشن سے پریشان ہیں، لیکن کیا ہم نے کرپشن کو صرف حکمرانوں اور بڑے عہدوں تک محدود نہیں کر دیا؟ ہم رشوت کے خلاف بات کرتے ہیں، مگر کیا رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں کو برابر کا ذمہ دار سمجھتے ہیں؟ ہم لوٹ مار کو برا کہتے ہیں، لیکن کیا چھوٹے پیمانے پر کسی کا حق مارنے، ناجائز منافع لینے، ملاوٹ کرنے، کم ناپنے یا کسی مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کو بھی اسی شدت سے برا سمجھتے ہیں؟ ہم انصاف کی عدم دستیابی پر افسوس کرتے ہیں، مگر کیا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے سے کمزور انسان کے ساتھ انصاف کرتے ہیں؟ ہم جھوٹ کے پھیلاؤ پر شکوہ کرتے ہیں، لیکن کیا معمولی فائدے کے لیے خود سچ کو چھپانے سے گریز کرتے ہیں؟ یہی وہ سوالات ہیں جن سے اجتماعی توبہ کا سفر شروع ہوتا ہے، کیونکہ توبہ صرف دوسروں کے گناہوں کا حساب نہیں بلکہ اپنے کردار کا احتساب بھی ہے۔

ہمارے اجتماعی گناہوں کی فہرست شاید اتنی طویل ہو چکی ہے کہ اسے گننا بھی مشکل ہے۔ حق کو چھپانا، جھوٹ کو فروغ دینا، رشوت لینا اور دینا، ملاوٹ کرنا، ذخیرہ اندوزی کرنا، ناپ تول میں کمی کرنا، حرام طریقے سے دولت کمانا، سفارش اور اقربا پروری کے ذریعے حق دار کو محروم کرنا، انصاف کو ذاتی مفاد کے تابع کرنا، کمزور کا حق دبانا، طاقتور کے سامنے خاموش رہنا، رشتوں میں حسد اور نفرت پیدا کرنا، وراثت کے حقوق کھانا، دوسروں کی عزت پامال کرنا، بدنگاہی اور جنسی بے راہ روی کو معمول بنانا، منشیات کے پھیلاؤ سے آنکھیں بند کرنا اور ظلم کو دیکھ کر یہ سوچ لینا کہ “مجھے کیا”—یہ سب ایسے رویے ہیں جو کسی ایک فرد کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں۔

قوموں کا زوال ہمیشہ ایک ہی دن میں نہیں ہوتا۔ کبھی زوال ایک جھوٹ سے شروع ہوتا ہے، کبھی ایک رشوت سے، کبھی ایک حق تلفی سے، کبھی ایک مظلوم کی فریاد کو نظر انداز کرنے سے اور کبھی اس وقت شروع ہوتا ہے جب معاشرہ برائی کو برائی کہنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب ناجائز کمائی کو کامیابی، دھوکے کو ذہانت، رشوت کو مجبوری، سفارش کو تعلق، ملاوٹ کو کاروباری حکمت اور ظلم کو طاقت کا حق سمجھ لیا جائے تو پھر مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں رہتا بلکہ معاشرتی اقدار کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال اس وقت سامنے آتی ہے جب معاشرے کے معصوم ترین افراد بھی محفوظ نہ رہیں۔ معصوم بچوں کا اغوا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی، تشدد، اذیت اور بعض واقعات میں انہیں بے رحمی سے قتل کر دینا ایسا المیہ ہے جس کے سامنے انسان کا دل لرز جاتا ہے۔ ایک بچہ جو دنیا کو اپنے گھر، اپنے والدین اور اپنے معاشرے کے ذریعے پہچانتا ہے، جب اسی معاشرے میں خوف، زیادتی اور موت کا شکار ہو تو یہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک سوال بن جاتا ہے۔ ہم ایسی خبریں سنتے ہیں، کچھ دیر کے لیے غمگین ہوتے ہیں، مذمت کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس کرتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔ مگر جس خاندان کا بچہ چلا گیا، جس ماں کی گود اجڑ گئی، جس باپ کا اعتماد ٹوٹ گیا، جس بہن بھائی نے اپنے پیارے کو کھو دیا، ان کے لیے معمول کی زندگی کہاں باقی رہتی ہے؟

بچوں کے خلاف جنسی جرائم صرف جرم نہیں بلکہ انسانی حرمت کے خلاف انتہائی سنگین حملہ ہیں۔ یہ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اپنے گھروں، اپنے محلوں، اپنے تعلیمی ماحول، اپنے سماجی رویوں اور اپنے اجتماعی شعور کا جائزہ لیں۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری قرار دے کر معاشرہ بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ ہر بالغ فرد، ہر خاندان، ہر تعلیمی ادارہ، ہر ذمہ دار شہری اور ہر صاحبِ اختیار شخص اس ذمہ داری کا حصہ ہے۔ جب ایک بچہ خطرے میں ہو تو یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہمارا بچہ ہے یا کسی اور کا؛ سوال صرف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک انسان ہے، ایک معصوم جان ہے اور اس کی حفاظت ضروری ہے۔

اسی تناظر میں جنسی بے راہ روی اور اخلاقی حدود کے کمزور ہونے کے مسئلے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کی خواہشات اگر ذمہ داری، اخلاق، خاندان، احترام اور انسانی حرمت سے جدا ہو جائیں تو ان کے اثرات فرد سے نکل کر معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ معاشرتی اخلاقیات محض پرانے تصورات کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ انسانی تعلقات میں احترام، ذمہ داری، حدود اور دوسرے انسان کی حرمت کا تحفظ کرتی ہیں۔ جب انسان دوسرے انسان کو محض اپنی خواہش یا مفاد کا ذریعہ سمجھنے لگے تو انسانی رشتوں کی بنیاد کمزور ہونے لگتی ہے۔

منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال اور ان کی آسانی سے دستیابی بھی ہماری اجتماعی تشویش کا بڑا سبب ہونا چاہیے۔ ایک نوجوان جب نشے کی طرف جاتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک فرد نہیں ڈوبتا، ایک گھر متاثر ہوتا ہے، والدین ذہنی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں، تعلیم اور روزگار کے امکانات کمزور ہوتے ہیں اور مستقبل کی ایک صلاحیت ضائع ہوتی ہے۔ اگر منشیات نوجوانوں تک آسانی سے پہنچ رہی ہوں تو یہ صرف نوجوان کا مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ پورے معاشرے کے مستقبل کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہم اس تباہی کو دیکھ کر کب تک خاموش رہیں گے اور کب اسے ایک اجتماعی خطرے کے طور پر محسوس کریں گے؟

ہماری معاشرتی کمزوری صرف بڑے جرائم میں نہیں، چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے رویوں میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ دکاندار کا کم ناپنا، کاروباری شخص کا ناقص چیز کو اچھی چیز کے نام پر فروخت کرنا، ذخیرہ اندوز کا مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمت بڑھانا، ملازم کا امانت میں خیانت کرنا، افسر کا رشوت کے بغیر کام نہ کرنا، بااثر شخص کا قانون کو اپنے لیے مختلف سمجھنا، کسی غریب مزدور کی اجرت روک لینا، کسی یتیم یا مجبور کے حق پر قبضہ کرنا—یہ سب اس وقت ایک بڑے معاشرتی بحران میں تبدیل ہو جاتے ہیں جب انہیں دیکھنے والے لوگ بھی اسے معمول سمجھنے لگتے ہیں۔

رشتوں کی دنیا میں بھی ہماری آزمائش کم نہیں۔ بہن بھائی وراثت پر ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، رشتہ دار معمولی مفادات کے لیے برسوں کے تعلقات ختم کر دیتے ہیں، حسد محبت کو کھا جاتا ہے، بدگمانی اعتماد کو ختم کر دیتی ہے اور انا انسان کو معافی مانگنے سے روک دیتی ہے۔ کبھی ہم دوسروں کے مال کے خواہش مند ہوتے ہیں، کبھی دوسروں کی خوشی ہمیں پریشان کرتی ہے، کبھی کسی کی ترقی برداشت نہیں ہوتی اور کبھی اپنے ہی قریبی انسان کا حق اس لیے روک دیتے ہیں کہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ہمارے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر خاندان ہی اعتماد، محبت اور انصاف کی جگہ نہ رہیں تو پھر معاشرے میں اجتماعی یکجہتی کیسے پیدا ہوگی؟

ظلم پر خاموشی بھی ہماری اجتماعی زندگی کا ایک بڑا المیہ ہے۔ کسی کمزور پر ظلم ہو رہا ہو، کسی مزدور کی اجرت روکی جا رہی ہو، کسی عورت کو ہراساں کیا جا رہا ہو، کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو، کسی غریب کا حق طاقتور چھین رہا ہو یا کسی مظلوم کو انصاف کے لیے دروازے دروازے بھٹکنا پڑ رہا ہو اور ہم صرف یہ سوچ کر خاموش رہیں کہ “یہ میرا مسئلہ نہیں”، تو یہ خاموشی معاشرے کی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے۔ ہر شخص سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہر مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لے، لیکن کم از کم ظلم کو ظلم سمجھنے، مظلوم کی بات سننے اور قانونی و پرامن طریقے سے حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا شعور تو پیدا کیا جا سکتا ہے۔

مظلوم اور مجبور عوام کی حالت بھی ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے ایک بڑا سوال ہے۔ ایک ایسا مزدور جو دن بھر محنت کرکے بھی اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے، ایک غریب خاندان جو علاج کے اخراجات سے خوفزدہ ہو، ایک والد جو اپنے بچے کی تعلیم کا خرچ پورا کرنے سے قاصر ہو، ایک ماں جو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہو، ایک بے روزگار نوجوان جو اپنی قابلیت کے باوجود مواقع کی تلاش میں بھٹک رہا ہو—ان سب کی مشکلات کو صرف اعداد و شمار میں تبدیل کر دینا انسانی تکلیف کو سمجھنے کے مترادف نہیں۔

ایسے حالات میں مظلوم و مجبور عوام کے لیے آواز اٹھانے کا تصور اہم ضرور ہے، مگر یہ آواز پرامن، قانونی، آئینی اور غیر متشدد ہونی چاہیے۔ کسی بھی اجتماعی تحریک کی اصل طاقت نفرت، تشدد یا انتشار نہیں بلکہ اخلاقی قوت، سچائی، قانون پسندی اور اجتماعی شعور ہونا چاہیے۔ سیاسی، لسانی اور مذہبی اختلافات معاشرے میں موجود رہ سکتے ہیں، مگر ان اختلافات کو انسانیت، انصاف، امن اور مظلوم کی حمایت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ اگر ایک غریب انسان کی تکلیف کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جائے کہ اس کی زبان مختلف ہے، علاقہ مختلف ہے، سیاسی وابستگی مختلف ہے یا مذہبی شناخت مختلف ہے تو پھر ہم انسان کو اس کی انسانیت سے نہیں بلکہ اس کی شناخت سے دیکھ رہے ہیں۔

اسی لیے اجتماعی توبہ کا پہلا قدم شاید یہ ہے کہ ہم اپنی شناختوں کے درمیان انسانیت کے مشترک رشتے کو دوبارہ پہچانیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ کوئی معاشرہ فرشتوں کا معاشرہ نہیں ہوتا، لیکن مہذب معاشرے وہ ہوتے ہیں جو اپنی غلطی کو غلطی تسلیم کرتے ہیں، ظلم کو ظلم کہتے ہیں، برائی کو معمول بننے سے روکتے ہیں اور اپنی اجتماعی کمزوریوں پر شرمندہ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

توبہ کا مطلب صرف زبان سے استغفار کرنا نہیں؛ توبہ اپنے رویے کو بدلنے کا نام بھی ہے۔ اگر ہم اللہ سے معافی مانگیں لیکن لوگوں کے حقوق کھاتے رہیں تو ہمارے الفاظ اور عمل میں فاصلہ باقی رہے گا۔ اگر ہم ظلم سے نجات کی دعا کریں مگر اپنے اختیار میں آنے والے کمزور انسان پر ظلم کرتے رہیں تو ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ اگر ہم ملک میں دیانت دار قیادت کی دعا کریں مگر خود معمولی فائدے کے لیے خیانت کریں تو ہمیں اپنے حصے کی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ اگر ہم بچوں کی حفاظت کی دعا کریں مگر ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر صرف خبر دیکھ کر آگے بڑھ جائیں تو ہمیں اپنی حساسیت کا جائزہ لینا ہوگا۔

قرآن مجید کا یہ اصول ہمارے اجتماعی شعور کے لیے گہرا پیغام رکھتا ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ اس اصول کو صرف دوسروں کے لیے پڑھنے کے بجائے اپنے اوپر لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ قوم کی حالت صرف حکمران نہیں بدلتے، قوم کے افراد بھی بدلتے ہیں۔ گھر بدلتا ہے تو محلہ بدلتا ہے، محلہ بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے اور معاشرہ بدلتا ہے تو قوم کے مجموعی کردار میں تبدیلی آتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی قوم کی اصلاح صرف نعروں سے نہیں ہوتی۔ اصلاح کا آغاز انسان کے اندر سے ہوتا ہے۔ اپنے گھر میں سچ بولنے سے، اپنے کاروبار میں امانت داری سے، اپنے ملازم کے حق کی حفاظت سے، اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھے سلوک سے، اپنے بہن بھائی کا حق ادا کرنے سے، کمزور کی مدد کرنے سے، بچے کی عزت اور حفاظت کو اہمیت دینے سے، رشوت کو معمول سمجھنے سے انکار کرنے سے اور ظلم کو دیکھ کر قانونی و پرامن طریقے سے اس کے خلاف آواز اٹھانے سے۔

ہمیں شاید ایک ایسی اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے جس میں صرف زبانیں نہیں بلکہ ضمیر بھی شامل ہوں۔ ایسی توبہ جس میں انسان اپنے رب کے سامنے بھی جھکے اور بندوں کے حقوق کے معاملے میں بھی سنجیدہ ہو۔ ایسی توبہ جس میں صرف گناہوں پر افسوس نہ ہو بلکہ ان گناہوں سے پیدا ہونے والے انسانی دکھ کو بھی محسوس کیا جائے۔ ایسی توبہ جس میں صرف اپنے لیے مغفرت نہ مانگی جائے بلکہ مظلوموں، مجبوروں، یتیموں، بچوں، بے سہارا خاندانوں اور ہر اس انسان کے لیے بھی دل میں درد پیدا ہو جس کا حق طاقت، دولت، عہدے یا ظلم کے نیچے دب گیا ہے۔

آج ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم کس قسم کا معاشرہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں بچے خوف کے بغیر باہر نکل سکیں یا ایسا معاشرہ جہاں والدین ہر لمحہ اپنے بچوں کے بارے میں خوفزدہ رہیں؟ ایسا معاشرہ جہاں دیانت دار انسان عزت پائے یا ایسا معاشرہ جہاں چالاکی اور دھوکا کامیابی کی علامت بن جائے؟ ایسا معاشرہ جہاں غریب کی فریاد سنی جائے یا ایسا معاشرہ جہاں صرف طاقتور کی آواز اہم ہو؟ ایسا معاشرہ جہاں قانون سب کے لیے ہو یا ایسا معاشرہ جہاں قانون کی حیثیت انسان کی طاقت کے مطابق بدلتی محسوس ہو؟

اگر ہم واقعی اپنی حالت پر غور کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اجتماعی رویوں کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک کے مسائل صرف ایوانوں میں نہیں، ہمارے گھروں اور بازاروں میں بھی موجود ہیں۔ بدعنوانی صرف بڑے منصوبوں میں نہیں، روزمرہ کے معاملات میں بھی ہوتی ہے۔ ناانصافی صرف عدالتوں کے باہر نہیں، ہمارے گھروں میں بھی ہو سکتی ہے۔ ظلم صرف طاقتور کے ہاتھ سے نہیں ہوتا، کبھی ایک کمزور انسان بھی اپنے سے زیادہ کمزور شخص پر ظلم کرتا ہے۔ اس لیے اصلاح کا مطالبہ ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف نہیں ہونا چاہیے؛ اسے نیچے سے اوپر اور اندر سے باہر بھی آنا چاہیے۔

شاید یہی وہ وقت ہے جب ہمیں خوابِ خرگوش سے بیدار ہونا چاہیے، اس سے پہلے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی اخلاقی سمت اتنی دور کھو دیں کہ واپسی دشوار محسوس ہونے لگے۔ اجتماعی توبہ کسی سیاسی جماعت کا نعرہ نہیں، کسی مخصوص طبقے کی ملکیت نہیں اور کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ہر اس شخص کا معاملہ ہے جو اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہونے پر یقین رکھتا ہے اور ہر اس شہری کا بھی جو ایک بہتر، محفوظ اور باوقار معاشرے میں زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

آئیے اپنے رب کے سامنے سر جھکائیں اور اپنے دل سے پوچھیں کہ ہم نے کہاں کہاں کسی کا حق مارا، کہاں سچ چھپایا، کہاں جھوٹ بولا، کہاں رشوت کو قبول کیا، کہاں حرام کمائی کی طرف ہاتھ بڑھایا، کہاں کسی کمزور کو دبایا، کہاں کسی مظلوم کی آواز نظر انداز کی، کہاں کسی رشتے میں حسد پیدا کیا، کہاں اپنی خواہش کو اخلاق پر ترجیح دی اور کہاں اپنی خاموشی سے ظلم کو بڑھنے دیا۔ اگر ان سوالات کے جواب ہمیں بے چین کرتے ہیں تو شاید یہی بے چینی ہماری اجتماعی بیداری کا آغاز بن سکتی ہے۔

اے ذوالجلال والاکرام! ہم تیرے بندے ہیں، خطاکار ہیں، کمزور ہیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہمارے انفرادی اور اجتماعی گناہوں کو معاف فرما۔ ہمیں کرپشن، رشوت، جھوٹ، خیانت، ملاوٹ، حرام خوری، ظلم، حق تلفی، حسد، بدنگاہی، بدکرداری اور ہر ایسی برائی سے بچا جو ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ ہمارے معصوم بچوں کی حفاظت فرما، انہیں اغوا، جنسی زیادتی، تشدد اور ہر قسم کی اذیت سے محفوظ فرما۔ ہماری نوجوان نسل کو منشیات اور ہر تباہ کن عادت سے محفوظ فرما۔ مظلوموں کی مدد فرما، مجبوروں کی فریاد سن، بے سہارا لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا فرما اور ہمارے حکمرانوں، اداروں اور تمام صاحبِ اختیار افراد کو عدل، امانت، دیانت اور جواب دہی کا احساس عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ایسا معاشرہ عطا فرما جہاں کسی کمزور کا حق طاقتور نہ کھا سکے، جہاں کسی معصوم بچے کی چیخ بے معنی نہ ہو، جہاں مظلوم کی فریاد دروازوں سے ٹکرا کر واپس نہ آئے، جہاں رشوت کو معمول نہ سمجھا جائے، جہاں جھوٹ کامیابی کا ذریعہ نہ بنے، جہاں حرام کمائی عزت کی علامت نہ ہو، جہاں اختلاف دشمنی میں تبدیل نہ ہو اور جہاں انسان کو سب سے پہلے انسان سمجھا جائے۔

اور اگر ہمیں واقعی اپنی حالت بدلنے کی توفیق چاہیے تو اس کی ابتدا شاید آج، اسی لمحے، اپنے آپ سے کرنا ہوگی۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف بڑے فیصلوں سے نہیں بدلتی؛ کبھی ایک سچا لفظ، ایک ادا کیا ہوا حق، ایک واپس کیا ہوا مال، ایک روکی ہوئی رشوت، ایک بچایا ہوا بچہ، ایک مظلوم کے حق میں اٹھنے والی پرامن آواز اور ایک سچی توبہ بھی تاریخ کے رخ کو بدلنے والے سفر کا آغاز بن سکتی ہے۔

**آمین یا رب العالمین۔**

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *