پمز نرسری کا سانحہ: 14 ننھی لاشیں، ذمہ دار کون؟

عقلِ سلیم
پمز نرسری کا سانحہ: 14 ننھی لاشیں، ذمہ دار کون؟
رائٹر: سید سلیم شہزاد جیلانی
اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ صحت اور حفاظتی انتظامات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔وہ معصوم بچے جنہوں نے ابھی زندگی کی دہلیز پر قدم ہی رکھا تھا، جن کی ماؤں نے انہیں سینے سے لگانے کے خواب دیکھے تھے، آج ان کے والدین کے پاس صرف آنسو، قبریں اور بے شمار سوالات ہیں۔سوال یہ ہے کہ نرسری میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات کہاں تھے؟اگر فائر الارم اور اسپرنکلر جیسے بنیادی حفاظتی نظام موجود نہیں تھے تو اس غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف چند ملازمین کو معطل کر دینا کافی ہے؟ کیا ان 14 معصوم جانوں کا حساب کبھی لیا جائے گا؟حادثات ہمیشہ روکے نہیں جا سکتے، مگر غفلت سے ہونے والی اموات کو روکنا ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پمز نرسری سانحے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہوں، اور ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی انتظامات کا فوری آڈٹ کرایا جائے۔یہ 14 بچے صرف اعداد نہیں تھے؛ یہ 14 خاندانوں کی امید، 14 ماؤں کی دعائیں اور 14 باپوں کے خواب تھے۔آج اگر ہم خاموش رہے تو کل کسی اور نرسری سے اٹھنے والی چیخیں ہمارے ضمیر کو پھر جھنجھوڑیں گی۔ہمیں افسوس نہیں، جواب چاہیے۔ ہمیں وعدے نہیں، انصاف چاہیے۔عقلِ سلیم کا تقاضا ہے کہ 14 معصوم جانوں کے خون کا حساب لیا جائے۔
سید سلیم شہزاد جیلانی

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *