
عقلِ سلیم: نرسری میں ننھی جانیں محفوظ نہ رہیں تو پھر کون محفوظ ہے؟
تحریر: سید سلیم شہزاد جیلانی
سانحۂ پینمز ہسپتال (PIMS) کی نرسری کا واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں، یہ ہمارے پورے نظامِ صحت، نگرانی اور جواب دہی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے!
وہ ننھی جانیں جو ابھی دنیا کو دیکھنا بھی نہیں سیکھ پائی تھیں، جن کے والدین انہیں اس امید پر ہسپتال کے سپرد کرتے ہیں کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں—اگر وہی بچے اس طرح کے سانحے کا شکار ہو جائیں تو سوال صرف ایک ہسپتال کا نہیں، پورے ریاست کے نظام کا بن جاتا ہے۔
ذاتی مشاہدہ اور تلخ حقیقت:
میں یہ بات اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ چند ماہ قبل مجھے 20 دن ایک ہسپتال کی نرسری کے باہر رہنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ نرسز، ڈاکٹرز اور سکیورٹی گارڈز 24 گھنٹے متحرک تھے اور کڑے پروٹوکولز نافذ تھے۔
اسی لیے جب پینمز ہسپتال کی ویڈیو کے مناظر سامنے آتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ اگر یہ مناظر سچائی پر مبنی ہیں تو چند سنگین سوالات جنم لیتے ہیں:
* اس وقت نرسری میں ڈیوٹی پر کون موجود تھا؟
* کتنے ڈاکٹرز اور نرسز وہاں تعینات تھیں؟
* فائر الارم اور سیفٹی سسٹم کی نگرانی کون کر رہا تھا؟
* اور سب سے بڑھ کر: جب یہ سانحہ پیش آیا تو ذمہ دار افراد کہاں تھے؟
الزام تراشی نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات کا مطالبہ:
یہ سوالات کسی پر بلا ثبوت الزام لگانے کے لیے نہیں، بلکہ سچائی سامنے لانے کے لیے ہیں۔ لیکن اگر واقعی اس وقت عملہ غائب تھا، تو اسے محض “اتفاقی غفلت” کہہ کر فائل بند نہیں کی جا سکتی۔
> نرسری کے بچے نہ مدد کے لیے پکار سکتے ہیں، نہ بھاگ سکتے ہیں۔ وہ مکمل طور پر عملے کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ وہاں ایک سیکنڈ کا حفاظتی خلا بھی مجرمانہ غفلت ہے۔
>
حکامِ بالا سے فوری مطالبات:
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ، وفاقی حکومت، محکمہ صحت اور سکیورٹی اداروں سے گزارش ہے کہ:
* CCTV آن لائن ریکارڈ: نرسری، راہداریوں اور داخلی/خارجی راستوں کی مکمل فوٹیج فوری محفوظ اور چیک کی جائے۔
* ڈیوٹی روسٹر کی جانچ: حاضری کا ریکارڈ ملا کر تمام عملے سے الگ الگ شفاف تحقیقات کی جائیں۔
* تکنیکی معائنہ: فائر سیفٹی سسٹم کا غیر جانبدارانہ فنی معائنہ کیا جائے۔
* سخت ترین سزا: اگر کسی سطح پر کوتاہی یا ڈیوٹی سے غیر حاضری ثابت ہو، تو ذمہ دار کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے عبرت ناک سزا دی جائے۔
قوم کو تسلی نہیں، جواب چاہیے!
یہ بچے کسی سیاست یا جماعت کے نہیں تھے، یہ صرف اپنے والدین کی امید اور ریاست کی ذمہ داری تھے۔
اگر ہم ان بچوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے تو عام شہریوں کی حفاظت کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟ قوم کو صرف افسوس کے چند جملے نہیں چاہئیں۔ والدین کو یہ یقین چاہیے کہ ان کی اولاد نرسری میں محفوظ رہے گی۔
ان ننھی جانوں کی خاموش چیخ ہم سب سے صرف ایک ہی سوال کر رہی ہے:
ہم کب جاگیں گے؟