
امریکہ اور سعودی عرب کا جوہری معاہدہ ایک پراسرار اور متضاد معاملہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ جوہری معاہدے نے بین الاقوامی حلقوں میں ایک عجیب الجھن پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف تو اس معاہدے کے متن میں سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت دینے کے امکانات پائے جاتے ہیں، تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کی زبانی شرائط امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ جوہری معاہدہ دراصل ایک طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد ہے، جس کی مالیت کئی دسیوں ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے. اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں، جن میں ویسٹنگ ہاؤس جیسے ری ایکٹر بنانے والے ادارے شامل ہیں، سعودی عرب کے شہری جوہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لئے ٹھیکے حاصل کر سکیں گی.سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ جوہری توانائی سے وہ اپنی تیل اور گیس کی مقامی کھپت کو کم کر سکے گا، جس سے برآمد کے لئے مزید وسائل بچ سکیں گے. یہ پروگرام سعودی وژن 2030 کا بھی حصہ ہے، جس کے تحت وہ اپنی تکنیکی اور صنعتی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہتے ہیں.اس معاہدے کے حوالے سے سب سے بڑی الجھن صدر ٹرمپ کے بیانات سے پیدا ہوئی ہے۔ 23 جولائی 2026 کو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ یہ جوہری معاہدہ اس شرط پر منظور کیا جائے گا کہ سعودی عرب “ابراہم معاہدے” میں شامل ہو اور اسرائیل کو تسلیم کرے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں یورینیم افزودگی شامل نہیں ہوگی. لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ معاہدے کے مسودے میں یورینیم افزودگی اور ایندھن کی پروسیسنگ پر کوئی مستقل پابندی نہیں ہے. بلکہ اس میں دو سالہ مشترکہ مطالعے کا ذکر ہے جس کے تحت یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا سعودی عرب کو اپنی یورینیم افزودگی کی سہولت قائم کرنی چاہیے.امریکی سفارت کاروں نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت دیتا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ اس سے انکار کر رہے ہیں. امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے اس امر کی تصدیق کی کہ یورینیم افزودگی کو روکنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے.
یہ معاہدہ امریکی جوہری پالیسی میں دوہرے معیار کی ایک واضح مثال ہے. 2009 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا، اس میں امارات نے مستقل طور پر یورینیم افزودگی اور ایندھن کی پروسیسنگ سے دستبرداری اختیار کی تھی، جسے گولڈ اسٹینڈرڈ کہا جاتا ہے.اس کے برعکس، سعودی عرب کے ساتھ معاہدے میں یہ پابندی عائد نہیں کی گئی. مزید یہ کہ سعودی عرب نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے اضافی پروٹوکول کو بھی قبول نہیں کیا، جو انسپکٹرز کو غیر اعلانیہ جوہری سرگرمیوں کی تحقیقات کے لئے وسیع تر رسائی فراہم کرتا ہے.یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت اہم ہو جاتی ہے جب امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لئے فوجی کارروائی کر رہا ہے. امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اس تضاد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کا جواز اس کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لئے پیش کر رہے ہیں، لیکن وہ اپنے قریبی اتحادی سعودی عرب کو وہی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں اس معاہدے کے پیچھے واضح تجارتی اور جغرافیائی سیاسی مفادات کارفرما ہیں امریکہ کو خدشہ ہے کہ اگر وہ سعودی عرب کو جوہری ری ایکٹر فراہم نہیں کرے گا تو سعودی عرب چین، روس یا جنوبی کوریا سے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر لے گا. یہ معاہدہ امریکی کمپنیوں کو ایک منافع بخش مارکیٹ فراہم کرتا ہے اور امریکی جوہری صنعت کو بحال کرنے میں مدد کر سکتا ہے.امریکہ اس معاہدے کے ذریعے سعودی عرب کو اپنے ساتھ باندھنا چاہتا ہے اور اسے اپنے حریف ممالک سے دور رکھنا چاہتا ہے. یہ معاہدہ ایران کے خلاف ایک پیغام بھی ہے، جس میں امریکہ اپنے اتحادیوں کی حمایت کا اظہار اس معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات ہیں صدر ٹرمپ کی شرط ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرے اور ابراہم معاہدے میں شامل ہو. لیکن سعودی عرب نے اس سے پہلے اس شرط کو مسترد کر دیا ہے، خاص طور پر غزہ جنگ کے بعد عوامی سطح پر اسرائیل مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے. ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان بہت کم ہے.
ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے. ترکی جیسے ممالک بھی ایسے ہی مطالبات کر سکتے ہیں، جس سے خطے میں جوہری عدم پھیلاؤ کی پوری نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے. اسرائیل بھی سعودی عرب کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو اپنے علاقائی تسلط کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔یہ جوہری معاہدہ ایک ایسے پیچیدہ اور متضاد صورتحال کو ظاہر کرتا ہے جہاں امریکی صدر کے بیانات اور معاہدے کی حقیقت آمنے سامنے ہیں۔ ایک طرف تو امریکہ ایران کو اس کی جوہری سرگرمیوں پر سزا دے رہا ہے، تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کو وہی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رہا ہے۔یہ معاہدہ امریکی جوہری پالیسی میں دوہرے معیار کی ایک واضح مثال ہے، جس میں تجارتی اور جغرافیائی سیاسی مفادات کو عدم پھیلاؤ کے اصولوں پر ترجیح دی گئی ہے. تاہم، اس معاہدے کا مستقبل ابھی تک غیر یقینی ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ کی شرائط اور معاہدے کی اصل نوعیت میں واضح تضاد ہے، اور امریکی کانگریس میں اس کی منظوری بھی آسان نہیں ہوگی.بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی ہوگی، کیونکہ اس معاہدے کے نتائج صرف امریکہ اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے.