
امریکی وزیر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی ایرانی حکومت کے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے
ایک تازہ بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے یا مذاکرات کی راہیں اس وقت اس وقت تک کھلی نہیں ہیں، جب تک تہران میں نئی انتظامیہ اپنے کام کا آغاز نہیں کر لیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ ایرانی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے اور وہ اس نئے دور کا انتظار کرے گا جب ایران کا نیا صدر اور ان کی ٹیم اپنی پالیسیوں کا اعلان کرے گی۔امریکی وزیر کے مطابق واشنگٹن کسی بھی قسم کے اہم سیاسی یا جوہری معاہدے کے لیے عجلت سے بچنا چاہتا ہے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ نئی ایرانی حکومت کے آنے کے بعد ہی دونوں طرف سے واضح موقف سامنے آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایرانی عوام یا حکومت کے خلاف کسی تعصب کا شکار نہیں، بلکہ وہ ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد مذاکراتی عمل کے خواہاں ہیں، جو دونوں ممالک کے مفادات کے لیے مفید ہو۔اس بیان کے پسِ منظر میں یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران میں سیاسی استحکام کے بعد مذاکرات کی نئی لہر دوڑے، تاکہ پچھلے معاہدوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ تاہم، اس انتظار کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سی قوتیں اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کوئی بھی پیش رفت پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ہ یہ کہ امریکی موقف اس وقت دیکھو اور انتظار کرو کی کیفیت اختیار کر چکا ہے، اور وہ ایران میں سیاسی تبدیلیوں کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں بات چیت کی نئی راہیں ہموار ہو سکیں۔