پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تجارت، صنعت اور عام آدمی پر ایک اور کاری ضرب ہے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تجارت، صنعت اور عام آدمی پر ایک اور کاری ضرب ہے، حکومت فوری طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافی بوجھ واپس لے: حیدرآباد چیمبرصدرمحمد سلیم میمن
حیدرآباد( ) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 دن میں تقریبا 21 روپے تک کے اضافے کو تجارت، صنعت اور عام آدمی پر ایک اور کاری ضرب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ معاشی بدانتظامی کا بوجھ کاروباری برادری اور عام شہریوں پر منتقل کرنے کا ایک آسان ذریعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل محض ایندھن نہیں بلکہ پورے معاشی نظام کی بنیادی ضرورت ہیں۔ جب ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، ہول سیل و ریٹیل تجارت اور بالآخر ہر شہری کے گھریلو بجٹ تک پہنچتے ہیں۔صدر چیمبر نے کہا کہ تاجر اور صنعتکارپہلے ہی مہنگی بجلی، بلند شرحِ سود، بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات، کم ہوتی قوتِ خرید اور مارکیٹ میں کمزور طلب جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ چھوٹے تاجروں اور چھوٹی صنعتوں کے لیے کاروبار جاری رکھنا اور اپنی بقاء برقرار رکھنا مزید مشکل بنانے کے مترادف ہے۔ سلیم میمن نے کہا کہ حکومت عوام کو محض محصولات اور آمدنی کا ذریعہ سمجھنے کی پالیسی جاری نہیں رکھ سکتی۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے تو حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنے کے لیے عوام اور کاروباری برادری کو کیا عملی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت کی ذمہ داری عوام کی قوتِ خرید، معاشی سرگرمی اور کاروبار کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے تو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا تمام تر بوجھ صارفین ہی پر کیوں منتقل کیا جا رہا ہے۔ صدرچیمبرسلیم میمن نے کہا کہ چھوٹے تاجر اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات کا ہر بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کرسکتے۔ جب عوام کی قوتِ خرید پہلے ہی دباؤ کا شکار ہو تو قیمتوں میں مزید اضافہ کاروباری فروخت میں کمی، منافع کے مارجن میں سکڑاؤ اور کاروباری اخراجات میں کٹوتی کا باعث بنتا ہے۔ بعض صورتوں میں کاروباری اداروں کو ملازمین کی تعداد کم کرنا یا کاروبار مکمل طور پر بند کرنے تک کے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹی صنعتیں بھی مسلسل بڑھتے ہوئے پیداواری، ترسیلی اور تقسیم کے اخراجات کے باعث مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنے سے قاصر ہوتی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ٹیکسوں اور محصولات کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر فوری نظرِثانی کی جائے اور حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز میں عارضی کمی یا مناسب ایڈجسٹمنٹ کی جائے جس سے غیر معمولی اضافے کا تمام تر بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل نہ ہو۔صدر حیدرآباد چیمبر نے کہا کہ کاروباری برادری مناسب معاشی اقدامات کی مخالف نہیں، تاہم وہ ایسی پالیسیوں کو سختی سے مسترد کرتی ہے جن کے ذریعے بار بار معاشی ایڈجسٹمنٹ کا پورا بوجھ تاجروں، صنعتکاروں اور عام آدمی پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت کو عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *