موثر سبسڈی پروگرام کے باعث سندھ نے 2025-26کے لیے وفاقی گندم کاشت کا ہدف عبور کر لیا
حیدرآباد، 28جنوری (پ ر)ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت توسیع سندھ نے ایک روزنامہ اخبار میں شائع ہونے والی خبر سے متعلق حقائق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ سندھ نے فصل سال 2025-26کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ گندم کی کاشت کا ہدف کامیابی سے عبور کر لیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے گندم کاشت کا ہدف 14,16,430 ہیکٹر (35,00,140 ایکڑ) مقرر کیا تھا، تاہم صوبے بھر میں 14,95,589 ہیکٹر (36,95,750 ایکڑ) رقبے پر گندم کی کاشت کی گئی ہے جو مقررہ ہدف سے 5.6 فیصد زائد ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے اس کامیابی کی بنیادی وجہ حکومت سندھ کے گندم کاشتکار سپورٹ (سبسڈی) پروگرام کو قرار دیا، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کی معاونت کے لیے متعارف کرایا گیاہے۔ اس پروگرام کے تحت 1 سے 25 ایکڑ زمین رکھنے یا کاشت کرنے والے کسانوں میںگندم کی کاشت کے لیے فی ایکڑ 22 ہزار روپے مالی معاونت فراہم کی گئی، جو ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی صورت میں دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سبسڈی پروگرام سے پیداواری لاگت میں نمایاں کمی آئی، کسانوں کو زیادہ رقبہ گندم کے لیے مختص کرنے کی ترغیب ملی اور بڑھتے ہوئے زرعی اخراجات کے باوجود کسانوں کا اعتماد مضبوط ہوا۔ اس کے نتیجے میں گندم کا زیرِ کاشت رقبہ وفاقی ہدف سے بڑھ گیا، جس سے صوبے میں غذائی تحفظ اور مجموعی زرعی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔محکمہ زراعت توسیع سندھ نے کسانوں کی معاونت، بروقت اقدامات اور مو¿ثر پالیسیوں کے ذریعے فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور سندھ میں پائیدار زرعی ترقی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہواہے۔
