حیدرآباد صدر حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری جناب محمد سلیم میمن نے وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے اعلان کردہPro- Growth Economic Packageکو ملکی صنعت، تجارت اور برآمدات کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اور دور رس نتائج کا حامل اقدام قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں صنعت کو درپیش بلند پیداواری لاگت، مہنگی توانائی، محدود فنانسنگ اور کمزور برآمدات جیسے چیلنجز کے پیش نظر حکومت کا یہ پیکیج ایک حقیقی Game Changer ثابت ہوگا اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرے گا۔صدر چیمبرسلیم میمن نے ایکسپورٹ ریفنانس ریٹ میں 300 بیس پوائنٹس کمی کے ذریعے شرح سود کو 7.5 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کرنے کو برآمدی شعبے کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور بروقت فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگا اور ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔انہوں نے صنعتی بجلی کے نرخوں میں روپے 4.04 فی یونٹ کمی اور وہیلنگ چارجز کو روپے 9 فی یونٹ سے کم کرنے کو پیداواری لاگت میں نمایاں کمی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔تاہم صدر محمد سلیم میمن نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کی قیمت کو عالمی معیار کے مطابق 9 سینٹ فی یونٹ (ڈالر کے حساب سے) تک لانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک غیر ضروری اور مہنگے آئی پی پیز (IPP) معاہدوں کا ازسرِنو جائزہ لے کر انہیں ختم نہیں کیا جاتا اور کیپسٹی چارجز کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک توانائی کا نظام مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح مہنگی گیس کو سستا کرنا بھی صنعت اور گھریلو صارفین دونوں کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ توانائی کے دونوں ذرائع کی بلند قیمتیں قومی معیشت پر بھاری بوجھ بن چکی ہیں۔صدر چیمبر کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ کریں گے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پاکستان، وفاقی کابینہ اور متعلقہ اداروں کو اس صنعت دوست اور دور اندیشانہ پالیسی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت آئندہ بھی کاروباری برادری سے مشاورت کے ساتھ توانائی، صنعت اور برآمدات کے شعبے میں مزید اصلاحات جاری رکھے گی تاکہ پاکستان پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
