کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ میں جاری مبینہ سنگین بدعنوانیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا
بلدیہ عظمی کراچی میں اربوں کے ٹھیکوں کی مبینہ لوٹ کھسوٹ کا انکشاف،ڈائریکٹ کنٹریکٹ کا بڑا اسکینڈل منظر عام پر آگیا
(رپورٹ سٹی اڈیٹر ڈاکٹر عبدالرحیم کراچی)
افسران نے میئر کراچی کو اندھیرے میں رکھ کر شہر کی ترقی کا سودا کردیا, شہر میں ڈائریکٹ کنٹریکٹ کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا ہے، 10 کروڑ سے زائد لاگت سے حال ہی میں ضلع شرقی اسکیم 33 میں رحیم بخش سومرو روڈ کی تعمیر بغیر کسی ٹینڈر کے کئے جانے کا انکشاف . محکمہ انجینئرنگ کے افسران نے رحیم بخش سومرو روڈ کا میئر کراچی سے افتتاح بھی کرادیا، کے سی اے کے محکمہ انجینئرنگ کے نااہل اور کرپٹ افسران کی موجودگی میں میئر کراچی کا شہر کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا بلدیہ عظمی کراچی میں اربوں کے ٹھیکوں کی مبینہ لوٹ کھسوٹ کا انکشاف،ڈائریکٹ کنٹریکٹ کا بڑا اسکینڈل منظر عام پر آگیا، شہر کی ترقی کا فنڈز مبینہ جعلسازی سے ٹھکانے لگائے جانے کا الزام،محکمہ انجینئر نگ کے افسران نے میئر کراچی کو اندھیرے میں رکھ کر شہر کے ترقیاتی منصوبوں کا سودا کرڈالا،کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین نے محکمہ انجینئرنگ میں جاری بدعنوانیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا،حال ہی میں ضلع شرقی اسکیم33 گلزار ہجری میں 10کروڑ سے زائد لاگت سے رحیم بخش سومرو روڈ کی تعمیر بغیر کسی ٹینڈر کے کئے جانے کا الزام،افسران نے میئر کراچی سے منصوبے کا افتتاح بھی کراڈالا،ایسوسی ایشن کے چیئرمین نعیم کاظمی نے شہر میں مبینہ طور پر50 سے زائد ڈائریکٹ کنٹریکٹ کے ذریعے حکومتی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچائے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعلی،چیف سیکریٹری اور میئر کراچی مرتضی وہا ب سمیت فنانشل ایڈ وائزرسے فوری نوٹس لینے اور تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمی کراچی محکمہ انجینئرنگ کے افسران نے میئر کراچی مرتضی وہاب کو ایک اور نئی مشکل میں ڈال دیا ہے، کراچی کنٹریکٹر زایسوسی ایشن نے اس حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی محکمہ انجینئرنگ کے افسران نے میئر کراچی مرتضی وہاب کو مبینہ طور پر اندھیرے میں رکھ کر اربوں کے فنڈز کی لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے،کراچی کا ترقیاتی فنڈز ٹھیکوں کی مبینہ خریدوفروخت کے ذریعے ٹھکانے لگایا جارہا ہے،کے ایم سی میں موجود ڈپلومہ انجینئرز ناقص ترقیاتی کاموں کے ذریعے دن رات مال بٹورنے میں مصروف ہیں، ایسوسی ایشن کے حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی میں کام کرنے والے کنٹریکٹرز کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ کے افسران کی بھاری کمیشن وصولی اور کنٹریکٹرز کو بلیک میل کئے جانے پر سخت پریشانی کا شکار ہوچکے ہیں،ترقیاتی منصوبوں کا 50 فیصد حصہ کمیشن اور ٹیکسز کی نذر ہورہا ہے جبکہ بقیہ پچاس فیصد بچنے والے اسٹیمیٹ میں کنٹریکٹر کس طرح معیاری اور مکمل کام کرسکتا ہے؟،چیئرمین کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن ایس ایم نعیم کاظمی کا کہنا ہے کہ محکمہ انجینئرنگ کے کرپٹ اور نااہل افسران کی موجودگی میں میئر کراچی کا شہر کی ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ہے، نعیم کاظمی کا مزید کہنا ہے کہ حال ہی میں ضلع شرقی کی حدود اسکیم33 گلزار ہجری میں “رحیم بخش سومرو روڈ” کی تعمیر کا میئر کراچی مرتضی وہاب نے افتتاح کیا ہے،10 کروڑ سے زائد لاگت کے مذکورہ منصوبے کا نہ ہی کے ایم سی میں ٹینڈر کیا گیا نہ ہی اس کا اخبارات میں اشتہار دیا گیا اور نامعلوم من پسند کنٹریکٹر کے ذریعے روڈ تعمیر کرادیا گیا ،ٹھیکوںکا کمپٹیشن نہ کراکر اور ڈائریکٹ کنٹریکٹ دیئے جانے سے ایک جانب قوانین کے ساتھ سنگین مذاق کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف حکومتی خزانے کو بھی بھاری مالی نقصان پہنچاکر مبینہ ذاتی مالی مفادات حاصل کئے جارہے ہیں۔ نعیم کاظمی کا کہنا ہے کہ ہماری اطلاعات کے مطابق اربوں روپے لاگت کی50 سے زائد ترقیاتی اسکیموں کے ٹھیکے چور دروازے سے من پسند ٹھیکیداروں کو جعلسازی سے دیئے گئے ہیں،ایس ایم نعیم کاظمی نے محکمہ انجینئرنگ میں جاری مبینہ بدعنوانیوں پر وزیر اعلی سندھ،چیف سیکریٹری،میئر کراچی مرتضی وہاب ،فنانشل ایڈوائزر کے ایم سی اور تحقیقاتی اداروں بلخصوص نیب اور ایف آئی اے سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔
