امریکہ کے ایک تیر سے کئی شکار عالمی سطح پر ایک وسیع تر معاشی اور اسٹریٹجک منصوبے کا حصہ ہے۔
*کالم نگار: سٹی اڈیٹر ڈاکٹر عبدالرحیم ای این آئی نیوز کراچی*
امریکہ کے ایک تیر سے کئی شکار کرنے پر عمل پیرا حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں عالمی مبصرین اس امر پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشی اور اسٹریٹجک منصوبے کا حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے ایران پر حملے سے قبل وینزویلا میں فوجی مداخلت کر کے اس کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کیا اور بعد ازاں اسرائیل کی حمایت کے اعلان کے ساتھ ایران کے خلاف کارروائی کی۔ امریکی پالیسی سازوں کو اس بات کا ادراک تھا کہ ایران ممکنہ طور پر ردِعمل میں آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، اور بظاہر یہی صورتحال امریکہ کے مفاد میں سمجھی جا رہی تھی۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جاتی ہے تو سعودی عرب، ایران، قطر، کویت، عراق اور عمان سے تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی میں شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب روس پہلے ہی جنگی حالات سے دوچار ہے اور امریکی پابندیوں کے باعث کئی ممالک نے اس سے تیل کی خریداری محدود کر دی ہے۔ حتیٰ کہ اس کا قریبی تجارتی شراکت دار بھارت بھی اس پالیسی سے پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے۔ ان حالات میں عالمی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وینزویلا کا تیل ایک اہم متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے، جس پر پہلے ہی امریکہ نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس تیل کو عالمی منڈی میں فراہم کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز مستقبل میں کھل بھی جائے، تاہم امریکہ اسے غیر محفوظ راستہ قرار دے کر تیل بردار جہازوں کی نقل و حمل کو خطرناک ثابت کرتا رہے گا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ممکنہ گمنام حملوں کا الزام ایران پر ڈال کر دنیا کو اس راستے سے تجارت سے روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اس کشیدگی کا ایک اور پہلو اسلحہ کی عالمی منڈی سے جڑا ہوا ہے۔ ایرانی میزائل حملوں کے بعد خطے کے کئی ممالک جدید دفاعی نظام حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ امریکی دفاعی صنعت کو پہنچنے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خطے میں عدم استحکام برقرار رہا تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار عرب ممالک کے لیے سنگین مسائل پیدا کرے گا۔ طویل المدتی بدامنی ان ریاستوں میں سیاسی عدم استحکام کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اختتامیہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ تنازع صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی محاذوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
دعا ہے کہ عالمِ اسلام میں امن، استحکام اور باہمی اتحاد کی فضا قائم ہو اور خطہ کسی بڑے بحران سے محفوظ رہے۔ آمین۔
