
حیدرآباد (رپورٹر) حیدرآباد کے سینئر صحافی ارشاد چنا کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد گزشتہ روز 70 برس کی عمر میں نوشہرو فیروز کے شہر محراب پور میں اپنی آبائی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ محراب پور میں ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں شہر کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مرحوم ارشاد چنا کی آخری رسومات میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی رہنماؤں لالا رحمان سموں، اقبال ملاح، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری جام فرید لاکو، ادیب امداد سومرو، سندھ ہاری کمیٹی کے مرکزی صدر کامریڈ ثمر حیدر جتوئی، حیدرآباد کے سینئر صحافی غلام حسین خاصخیلی سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی رہنماؤں، صحافیوں اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مرحوم سینئر صحافی ارشاد چنا حضیاء الحق کی مارشل لا کے خلاف آزادی صحافت کی تحریک میں حیدرآباد میں گرفتار ہوئے اور انہیں ملٹری کورٹ نے قید و بند کوڑے لگانے کی سزا سنائی تھی، وہ کئی ماھ خیرپور جیل میں قید رہے۔ پی ایف یو جے نے انھیں نثار عثمانی لائف ٹایم اچیومنٹ گولڈ میڈل ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ دوسری جانب حیدرآباد پریس کلب کے صدر جنید خانزادہ، نائب صدر جئے پرکاش مورانی، سیکریٹری اشوک شرما، جوائنٹ سیکریٹری فہیم ببر، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے خزانچی جانی خاصخیلی، سینئر صحافی منصور مری، سید سعید افضل شاہ، جاوید بھٹی، نیاز وگھیو، خادم چانڈیو، عبدالرسول چانڈیو، مقبول ملاہ، الطاف ڈہراج، سیف سمیجو، خالد چانڈیو، ونود کمار، فاضل چنا، راجہ انور چانڈیو، حسیب لطیفی سمیت سیاسی و سماجی رہنماؤں رزاق عمرانی، جاوید سوز ہالائی، عباس کھوسو، شاہنواز ارباب سمیت دیگر افراد نے سینئر صحافی ارشاد چنا کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔
