



حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے عالمی یوم آزادی صحافت کے حوالے سے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا جبکہ شہید صحافیوں کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئیں۔ اس موقع پر پی ایف یو جے کے مرکزی نائب صدر اور حیدرآباد پریس کلب کے صدر جنید احمد خانزادہ نے کہا کہ ہر آنے والا دور صحافت کے لئے پر خطر اور مشکل ثابت ہورہا ہے، پیکا قوانین کے تحت صحافیوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ انہیں حراساں کیا جارہا ہے تاہم اس کے باوجود صحافی برادری اظہار رائے کی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہنگے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت عامل صحافیوں کی کردار کشی کے لیے نام نہاد سوشل میڈیا کو استعمال کیا جارہا ہے، یہ عناصر منشیات فروشوں کے آلہ کار بن کر نہ صرف صحافت بلکہ حکومت کو بھی بدنام کرنے کی مہم میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پھول نچھاور کرنے کے ساتھ شمعیں روشن کی گئیں۔ شرکاء نے آزادی صحافت میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا اور آزادی صحافت کے لیے قربانی دینے والے قائدین کو خراج عقیدت پیش کیا اورمطالبہ کیا کہ ملک میں پیکا قوانین سمیت تمام کالے قوانین ختم کیے جائیں۔ بعدازاں جنید خانزادہ نے شہید اور انتقال کرجانے والے صحافیوں کے ایصال ثواب کیلئے خصوصی دعا کروائی۔ اس موقع پر صدر ایچ یو جے حامد شیخ، سینئر نائب صدر فیض کھوسو، سیکرٹری علی حمزہ زیدی، جوائنٹ سیکرٹری فیروز ببر، خازن دانش نفیس، سابق صدر ایچ یو جے آفتاب میمن، حیدرآباد پریس کلب کے جوائنٹ سیکریٹری فہیم ببر، پریس کلب کے خازن اکرم شاہد، سینئر صحافی ریاست ناغڑ، یاسین حمید، سردار شیخ، قسیم قریشی، ہارون آرائیں، مجاہد عزیز، سینئر فوٹو گرافر علی واحد، انجم پرویز، شکیل پٹھان، محمد وقاص، حسنین علی واحد، عباس شاہ، نوید کے کے، جاوید علی، ارشد انصاری، علی شیخ، حسن خان، شیراز بھٹی، نور عالم شاہ، عمران علی، عمران مشتاق، ارشد جبار قریشی، وارث بن اعظم، مانی پٹھان، آصف شیخ، راحیل شیخ، احمد رضا، اخلاق احمد، عمیر راجپوت، عرفان خان، عبدالخالق، جمیل پٹھان، راحیل شاہ، وسیم قاضی اور نظام الدین و دیگر نے شرکت کی۔
