





لال میر بستی میں مسجد کے نام پر دھوکہ، زمیندار کی نیکی بھی نہ بچا سکی
ضلع کوٹ ادو کے قریب واقع لال میر بستی میں ایک زمیندار مہر بلال صاحب نے اپنے علاقے والوں کے لیے بڑی نیکی کی — اپنی زمین سے مسجد کے لیے جگہ عطیہ کر دی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، علاقے کے لوگ مسجد پوری ہونے کے خواب دیکھنے لگے۔
لیکن یہیں سے ایک اور کہانی شروع ہوتی ہے، جس نے اس نیکی پر بھی گرہ لگا دی۔ زمانہ چاہے جتنا بھی آگے بڑھ جائے، کچھ لوگ اپنی ہی طمع کی وجہ سے دوسروں کا اعتماد توڑنے سے باز نہیں آتے۔ ایسا ہی ایک واقعہ یہاں پیش آیا۔ بستی میں ہی ذیشان نامی ایک شخص تھا، جس نے ایک غیرملکی (UK) پاکستانی فیملی سے مسجد کی تعمیر کے نام پر 40 لاکھ روپے منگوائے۔ یہ پیسے تھے اس خاندان کی محنت کی کمائی، جو انہوں نے اللہ کے گھر کے لیے دیے۔ ذیشان نے اپنے وعدے کے برعکس مسجد پر صرف 17 لاکھ روپے خرچ کیے۔ باقی ماندہ 23 لاکھ روپے اس نے اپنے ذاتی استعمال میں اڑا لیے۔ جب اوورسیز فیملی کو یہ بات پتہ چلی تو انہوں نے ذیشان سے جواب طلب کیا۔ لیکن ذیشان نے کچھ اور ہی کیا — متاثرہ فیملی کے فون نمبر بلاک کر دیے، اور نصف تعمیر شدہ مسجد کو ادھورا چھوڑ کر بستی سے غائب ہو گیا۔ آج وہ مسجد بغیر چھت کی ادھوری کہانی بنی کھڑی ہے، اور ذیشان نام کا یہ شخص شاید کسی اور جگہ پر نیا نشانہ ڈھونڈ رہا ہے۔ اگر آپ یا آپ کے جاننے والوں میں سے کوئی بھی ایسے شخص کے رابطے میں آئے جو مسجد، مدرسے یا کسی خیراتی کام کے نام پر چندہ مانگ رہا ہو — خاص طور پر اگر وہ ذیشان نام ہو — تو فوراً ہوشیار ہو جائیں۔ دھوکہ دینے والوں کے طریقے بدلتے نہیں، بس محل بدل جاتے ہیں۔ کسی نیک کام میں حصہ ڈالنے سے پہلے لوگوں کی ساکھ ضرور جانچ لیں، اور اگر ممکن ہو تو براہِ راست تعمیر میں شامل رہیں۔ ورنہ کوئی اور ذیشان آپ کی نیکی کو بھی اپنی خاطر کھا جائے گا۔اللہ ہمیں فریب کاروں سے بچائے۔
