حیدرآباد ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق رزاق خان دھاریجو حیدرآباد رینج نے کہا ہے کہ خواتین کا تحفظ، عزت اور ان کے آئینی حقوق کا دفاع پولیس کی اولین ذمہ داری ہے خواتین سے متعلق ہر شکایت پر فوری، شفاف اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔*
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وویمن پولیس اسٹیشن حیدرآباد کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر کے تحت قانونی معاونت اور دیگر سہولیات کے حصول کے لیے آنے والی خواتین سائلین کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔
ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج نے کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ پولیس متاثرہ خواتین کو صرف قانونی تحفظ ہی نہیں بلکہ باوقار، محفوظ اور ہمدردانہ ماحول کی فراہمی کو بھی یقینی بنا رہی ہے تاکہ خواتین بلا خوف و خطر اپنے مسائل کے حل کے لیے رجوع کرسکیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم کے خاتمے، فوری انصاف کی فراہمی اور محفوظ ماحول کی یقینی دستیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
اس موقع پر ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ، ڈی ایس پی کینٹ پارس بکھرانی، ایس ایچ او پولیس اسٹیشن وومین /انچارج ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر سکینہ بھٹی بھی موجود تھیں۔
قبل ازیں سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وویمن کی چیئر پرسن روبینہ بروہی نے ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ کمیشن خواتین کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ، صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی آزادانہ نگرانی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر، دارالامان، وویمن پولیس اسٹیشنز اور دیگر سروس ڈلیوری پوائنٹس کی باقاعدہ مانیٹرنگ کے ذریعے خامیوں کی نشاندہی اور بہتری کے لیے سفارشات مرتب کی جاتی ہیں تاکہ متاثرہ خواتین کو مزید بہتر، محفوظ اور باوقار سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ون ونڈو سہولیات کے تحت خواتین کے لیے علیحدہ استقبالیہ، فوری شکایات کے اندراج کے لیے ہیلپ ڈیسک، قانونی معاونت، سائیکو سوشل کاؤنسلنگ، متاثرہ خواتین کے ساتھ آنے والے بچوں کے لیے خصوصی پلے کارنر اور محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ ہراسگی، گھریلو تشدد اور دیگر جرائم سے متاثرہ خواتین کے لیے فوری رسپانس، رازداری کے تحفظ اور مؤثر کیس فالو اپ کا نظام بھی فعال ہے۔
