
*عوام کی مشکلات اور سیاسی بوجھ* ایک نہ ختم ہونے والی کہانی
کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان وہاں کے عام آدمی کی زندگی کے حالات ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ ہماری معاشرتی اور سیاسی سوچ میں یہ عام آدمی اکثر اعداد و شمار کا ایک نمبر بنا رہ جاتا ہے۔ جب ہم عوام کی مشکلات کی بات کرتے ہیں تو یہ محض مہنگائی، بیروزگاری یا بجلی کی لوڈشیڈنگ جیسی اصطلاحات کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زندہ انسان کی جدوجہد، اس کی نیندیں، اس کے خواب اور اس کی پریشانیوں کی ترجمانی ہے۔ گلی محلے کی بات کریں تو ایک عام شہری جب صبح اٹھتا ہے تو سب سے پہلے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ آج روٹی کا بندوبست کیسے ہوگا۔ مہنگائی کی مار نے گھر کے خرچے کو جوئے شیر کی طرح بنا دیا ہے۔ ہر طرف قرضے، ہر طرف چولہے اور علاج کے خرچے کا دہشت زدہ کر دینے والا اندازہ۔ بچوں کی فیسیں، دوائیوں کے بڑھتے دام، اور پھر وہ بجلی کا بل جو انسان کو مہینے کی پہلی تاریخ سے ہی پریشان کر دیتا ہے۔
غریب صرف معاشی مشکلات نہیں ہیں، بلکہ ذہنی اذیت بھی ہے۔ جب آدمی دیکھتا ہے کہ وہ پوری محنت کرتا ہے، رات دن کمانے کی دوڑ میں لگا رہتا ہے، لیکن مہینے کے آخر میں پتہ چلتا ہے کہ اتنی محنت کے باوجود وہ اپنے خاندان کو بنیادی سہولتیں بھی مہیا نہیں کر پا رہا، تو اس کے اندر مایوسی بیٹھ جاتی ہے۔ کئی بار تو نہ چھوٹے خوابوں کی تکمیل ممکن رہتی ہے، نہ بڑی خواہشوں کی۔ غریب اور متوسط طبقہ روزانہ ایک ایسے نظام کے ساتھ جوجھ رہا ہے جو اسے تھکنے کا وقت ہی نہیں دیتا۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی، سکولوں میں استادوں کی غیر حاضری، گلیوں میں گٹر اور پانی کی بندش – یہ سب ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں جو عوام کو جکڑے ہوئے ہیں۔ ان مشکلات کے پیچھے نظام کی ناکامی ہے، لیکن اس ناکامی کا خمیازہ کون بھگتتا ہے؟ وہی غریب آدمی جو بس یہ چاہتا ہے کہ اُسے سانس لینے دیا جائے۔سیاسی بوجھ وہ وزن جو عوام کے کندھوں پر ڈھیر کر دیا گیا اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ تمام مشکلات اتنی شدید اور مستقل کیوں ہیں؟ اس کا ایک بڑا سبب ہے سیاسی بوجھ لیکن سیاسی بوجھ سے میرا مطلب صرف ٹیکس یا پالیسیوں کا بوجھ نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ذہنی اور عملی بوجھ ہے جو سیاست کی نااہلی، بدعنوانی اور مفاد پرستی عوام پر ڈال دیتی ہے۔ سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد عوام کو محض ووٹ بینک سمجھتی ہے۔ وہ ہر پانچ سال بعد نعرے لگاتے ہیں، وعدوں کے پہاڑ توڑتے ہیں، اور پھر اقتدار میں آتے ہی اپنی مرضی کے منصوبے بناتے ہیں۔ عوام کی بنیادی ضروریات جیسے تعلیم، صحت، صاف پانی اور روزگار قربان کر دیے جاتے ہیں ان بڑے منصوبوں پر جو صرف چند لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
اسی طرح بدعنوانی نے نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ جب پیسے اور وسائل کا صحیح استعمال نہیں ہوتا، تو ترقی کے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ جو بجٹ اسکولوں اور ہسپتالوں کے لیے مختص ہوتا ہے، وہ جیب میں اتر جاتا ہے۔ نتیجتاً، عوام مہنگائی، افراطِ زر اور ناقص سہولتوں کا بوجھ اکیلے اٹھاتا ہے۔ عوام کی سیاسی بے بسی۔ زیادہ تر لوگ سیاست کو گندگی سے تعبیر کرتے ہیں، اور یہ سوچ کر انتخابات سے دور رہتے ہیں کہ “ہماری ایک ووٹ سے کیا فرق پڑتا ہے؟” لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی بے حسی ان پر بوجھ مزید بھاری کر دیتی ہے۔ جب باشعور اور تعلیم یافتہ طبقہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے، تو وہ لوگ حکمران بن جاتے ہیں جو مفادِ عامہ کی پروا نہیں کرتے۔
اس کے علاوہ سیاسی استحکام کی کمی بھی ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ جہاں ہر چند ماہ بعد حکومت بدلتی ہے، یا سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات کے لیے سڑکیں بلاک کرتی ہیں، ملک کی معیشت کو طمانچے لگتی ہیں، وہاں عوام کا کاروبار، تعلیم اور روزگار سب متاثر ہوتا ہے۔ عوام کا ذہنی سکون تباہ ہوتا ہے، کیونکہ انہیں یقین ہی نہیں رہتا کہ کل کیا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ عوام پر یہ بوجھ اس وقت تک کم نہیں ہوگا، جب تک عوام خود سیاست کے عمل کا حصہ بن کر نظام میں احتساب کا عنصر پیدا نہ کریں۔ واحد راستہ یہ ہے کہ ہم باشعور ووٹر بنیں، اپنی ذمہ داری سمجھیں، اور ایسے نمائندوں کو منتخب کریں جو فیصلہ سازی میں عوام کو مرکز رکھتے ہوں۔
سیاسی جماعتوں کو بھی بدلنا ہوگا – انہیں عوام کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ محض ووٹوں کا ذریعہ نہیں، بلکہ سیاست کا مقصد ہیں۔ شفافیت، احتساب اور فلاحِ عامہ کے بغیر کوئی بھی سیاسی نظام عوام کے لیے ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عوام کی مشکلات اور “سیاسی بوجھ کا یہ چکر ایک دوسرے کو کھلاتا ہے، جب تک ہم خود اسے توڑنے کی جرات نہ کریں۔ یہ وقت ہے کہ ہر شہری، اپنی حیثیت اور وسعت سے ہٹ کر، نظامِ سیاست کو بدلنے کا عزم کرے۔ کیونکہ جب تک عوام صرف شکایت کرتے رہیں گے، اور سیاست دان صرف وعدے کرتے رہیں گے، تب تک یہ بوجھ ہمارے کندھوں سے نہیں اترے گا۔
