*تحریر (سٹی ایڈیٹر ڈاکٹر عبدالرحیم کراچی)*

*تحریر (سٹی ایڈیٹر ڈاکٹر عبدالرحیم کراچی)*

آج 10 محرم ہے۔ آج وہ دن ہے جب 1400 سال پہلے کربلا کے صحرا میں حق اور باطل آمنے سامنے کھڑے ہوئے۔ ایک طرف نواسہِ رسول ﷺ، امام حسین علیہ السلام تھے۔ دوسری طرف یزید کی حکومت، تلواریں، لشکر اور اقتدار تھا۔
لیکن آج بھی کربلا ختم نہیں ہوئی۔ کربلا ہر دور میں زندہ ہے۔ آج بھی ہمارے سامنے “حسینیت” اور “یزیدیت” کا امتحان ہے۔

*کربلا کا سبق کیا تھا؟ –*

امام حسینؑ کے پاس کیا تھا؟ 72 ساتھی، پیاسے بچے، کمزور لشکر اور یزید کے پاس کیا تھا؟ 30 ہزار کی فوج، خزانے، تخت، حکومت۔
پھر بھی امام نے سمجھوتا کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ یزید نے کہا تھا “بیعت کر لو، حکومت بچا لو”۔
امام نے فرمایا: *“موتُہ فی عزٍّ خیرٌ من حیاتٍ فی ذلّ”* – عزت کے ساتھ موت، ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔

کربلا نے ہمیں 3 بڑے سبق دیے:

*پہلا سبق: اصول کا سودا نہیں ہوتا
یزید نے کہا نظریات بعد میں، کرسی پہلے۔ امام نے کہا نظریات پہلے، کرسی بعد میں بھی نہیں۔ نوکِ سنان پر ستو سجایا جا سکتا ہے، لیکن سچ کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔ آج بھی ہم ہر روز چھوٹے چھوٹے “یزید” سے ملتے ہیں جو کہتے ہیں “چلو یار، تھوڑا کمپرومائز کر لو”۔

*دوسرا سبق: منافقت سب سے بڑا زہر ہے
کوفہ والوں نے خط لکھے “آ جائیں امام، ہم آپ کے ساتھ ہیں”۔ جب امام آئے تو وہی لوگ چھپ گئے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے “کوفی” موجود ہیں۔ اسٹیج پر بڑے وعدے، لیکن عمل کے وقت خاموشی۔ سوشل میڈیا پر حق کی بات، لیکن گھر میں ظلم پر پردہ۔

*تیسرا سبق: عورت اور بچے بھی علم اٹھاتے ہیں
امام شہید ہو گئے، لیکن بی بی زینبؑ نے یزید کے دربار میں کھڑے ہو کر سچ بولا۔ 4 سال کی سکینہؑ نے پیاس کا رونا رو کر دنیا کو جگا دیا۔ کربلا نے ثابت کیا کہ مظلوم کی آواز تلوار سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔

*آج کا نظام اور کربلا کا فرق –*
آج کا نظام بھی کربلا جیسا ہے۔ فرق صرف ہتھیار کا ہے۔

*آج کا یزید تلوار نہیں اٹھاتا*
وہ مہنگائی کی تلوار اٹھاتا ہے۔ ایک غریب باپ جب اپنے بچے کے لیے دودھ نہیں خرید پاتا، وہی کربلا ہے۔

*آج کا یزید میدان نہیں سجاتا*
وہ جھوٹے وعدوں کا میدان سجاتا ہے۔ انتخاب کے وقت “روٹی، کپڑا، مکان” اور اقتدار کے بعد “خزانہ خالی ہے”۔ یہی وعدہ خلافی ہے۔

*آج کا یزید پانی نہیں بند کرتا*
وہ انصاف کا پانی بند کرتا ہے۔ کمزور کے لیے الگ قانون، طاقتور کے لیے الگ قانون۔ یہی ظلم ہے۔

*اور آج کا حسین کون ہے؟
آج کا حسین وہ استاد ہے جو رشوت نہیں لیتا۔ 
آج کا حسین وہ ڈاکٹر ہے جو غریب سے پیسے نہیں مانگتا۔ 
آج کا حسین وہ نوجوان ہے جو سچ بولتا ہے۔
آج کا حسین وہ ہے جو بے سہاروں کے دکھ درد میں بے لوث خدمات انجام دیتاہے۔

*ہمارا کردار کیا ہو؟ –*

ہم تلوار نہیں اٹھا سکتے، لیکن ہم 3 عہد کر سکتے ہیں:

*1. سچ کے ساتھ کھڑے ہوں*:
جہاں غلط ہو، وہاں “نہیں” کہنا سیکھیں۔ کلاس میں نقل ہو، دفتر میں کرپشن ہو یا کہیں بھی سچ بولنا ہی “لبیک یا حسین” ہے۔

*2. مفاد پرستی چھوڑیں*:
ووٹ دیتے وقت، نوکری دیتے وقت، رشتہ کرتے وقت صرف “اپنا فائدہ” نہ دیکھیں۔ اصول دیکھیں۔ کیونکہ قومیں اصول سے بنتی ہیں، مفاد سے نہیں۔

*3. مظلوم کا ساتھی بنیں*:
اپنے آس پاس دیکھیں۔ کوئی بچہ سکول سے اس لیے باہر ہے کہ فیس نہیں۔ کوئی بوڑھا دوا کے لیے ترس رہا ہے۔ اس کا ہاتھ پکڑنا ہی کربلا کا مشن ہے۔

یزید کے محل کھنڈر بن گئے، لیکن امام حسینؑ کا نام آج بھی ہر دل میں زندہ ہے۔ کیونکہ تاریخ تلوار سے نہیں لکھی جاتی، قربانی سے لکھی جاتی ہے۔

آئیے آج عہد کریں۔ ہم “خط لکھ کر بھول جانے والے کوفی” نہیں بنیں گے۔ ہم “کربلا کے 72” بنیں گے۔ جو کم تھے، لیکن سچے تھے۔

اور ہمارا نعرہ ہو گا: “ہیہات منا الذلۃ” – ہم ذلت قبول نہیں کریں گے!

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *