
جنگ کے آغاز کو سات ماہ بیت چکے ہیں، اور ایران کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے پر شدید دباؤ عیاں ہے۔ اس کے باوجود، تہران کی جانب سے تنازع کو جلد از جلد ختم کرنے کی جانب کوئی نمایاں بےتابی نظر نہیں آتی۔ یہ صورتِ حال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر یہ کہ ایران اس جنگ کو درحقیقت کس حد تک جاری رکھ سکتا ہے، اور اس کا اسٹریٹیجک مقصد کیا ہے؟
تہران کا طرزِعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ جنگ کا تسلسل اور سمت صرف واشنگٹن کے ہاتھ میں نہ رہے۔ ایران شاید یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ بھی اس تنازع کے میدان میں ایک اداکار ہے، اور امریکہ کو اکیلا فیصلہ ساز نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی کے ساتھ، ایران کی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ امریکہ پر فوجی، معاشی اور سیاسی اخراجات میں مزید اضافے کا بوجھ ڈالنا چاہتا ہے، تاکہ واشنگٹن مجبوراً ایران کے کچھ مطالبات کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ اس طرح، ایران بظاہر طویل مدتی تنازع کو برداشت کرنے اور اسے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
تاہم، یہ سب کچھ ایک بنیادی اور انتہائی اہم سوال کے گرد گھومتا ہے: ایران حقیقتاً کتنے عرصے تک اس جنگ کو جاری رکھ سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں ایران کی اندرونی صلاحیتوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
معاشی اعتبار سے ایران کو پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں اور اندرونی کمزوریوں کا سامنا ہے۔ تیل کی برآمدات پر پابندیاں، زر مبادلہ کی قلت، مہنگائی، اور روزگار کے بحران نے عوام کی قوت خرید اور حکومت کے وسائل کو محدود کر دیا ہے۔ جنگ کی صورت میں فوجی اخراجات، تعمیر نو، اور معاشی معاونت کے بوجھ نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو ایران کو خوراک، ادویات، اور اشیائے ضروریہ کی درآمدات میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جو عوامی بے امنی کو ہوا دے سکتی ہیں۔
بنیادی انفراسٹرکچر کے حوالے سے، ایران نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے، لیکن سڑکوں، پلوں، بجلی گھروں، اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچنا طویل مدتی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ ایران کے پاس عراق، شام، اور افغانستان کی سرحدوں پر وسیع تنوع موجود ہے، جس سے وہ سپلائی چینز کو برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن امریکی یا اسرائیلی ممکنہ حملے ان راستوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
سیاسی طور پر، ایران کی قیادت جانتی ہے کہ جنگ کو جاری رکھنا اندرونی یکجہتی کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ بیرونی خطرہ اکثر قومی وحدت کو تقویت دیتا ہے۔ لیکن یہ دو دھاری تلوار بھی ہے: اگر عوام کو معاشی پریشانیاں حد سے زیادہ بڑھ جائیں، یا انہیں یہ محسوس ہو کہ جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، تو حکومت کو اندرونی چیلنجز درپیش آ سکتے ہیں۔ ایران نے ماضی میں عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ (1980-1988) کا تجربہ کیا ہے، جس میں اس نے انتہائی سخت حالات میں بھی برداشت کا مظاہرہ کیا، لیکن اس بار معاشی حالات نسبتاً زیادہ نازک ہیں۔
دفاعی سطح پر، ایران کے پاس بیلسٹک میزائل، ڈرونز، اور سمندری صلاحیتیں ہیں جو اسے علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، نیٹو یا امریکہ کے حلیف ممالک کی ممکنہ کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لیے ایران نے غیر متناسب جنگی حکمت عملی اپنا رکھی ہے، جیسے کہ خلیج فارس میں چوک پوائنٹس کو کنٹرول کرنا، یا اپنے پراکسی گروپس کے ذریعے خطے میں دباؤ بڑھانا۔ تاہم، یہ صلاحیتیں بھی محدود ہیں، اور مکمل پیمانے کی جنگ میں ایران کو وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایران کتنے مہینے یا برسوں تک اس جنگ کو برداشت کر سکتا ہے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کم از کم ایک سے دو سال تک اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھ سکتا ہے، بشرطیکہ اسے اندرونی بغاوت کا سامنا نہ ہو اور اس کی اہم سپلائی لائنز برقرار رہیں۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ایران اس وقت جنگ کے خاتمے کی کوشش کرے جب اسے معلوم ہو کہ اس نے امریکہ کو کافی حد تک تھکا دیا ہے، اور اس کے بعض مطالبات مانے جانے کی صورت بنتی ہے۔
آخر میں، ایران کی قیادت کے رویے میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اس تنازع کو “طویل مدتی حکمت عملی” کا حصہ سمجھتی ہے، نہ کہ فوری خاتمے کا مسئلہ۔ وہ چاہتا ہے کہ امریکہ یہ سمجھے کہ جنگ کو روکنے یا جاری رکھنے کی قیمت کا تعین واشنگٹن کو بھی کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ ایران کے پاس اتنا وقت اور وسائل موجود ہیں کہ وہ اس سوچ پر عمل کر سکے، یا کیا ان حالات میں عوام کی حمایت برقرار رہ سکتی ہے۔
غرض، یہ ایک پیچیدہ معاشی، سیاسی، اور فوجی مساوات ہے، جس کا جواب بہت سے عوامل پر منحصر ہے: بین الاقوامی ردعمل، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، چین اور روس کی حمایت، اور سب سے اہم، ایران کے اندرونی عوام کے جذبات۔ وقت ہی بتائے گا کہ آیا ایران اس دباؤ کو مزید برداشت کر سکتا ہے، یا وہ جلد یا بدیر مجبوراً جنگ کے خاتمے کی جانب قدم بڑھائے گا۔