وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان کے حادثے میں سو سے زائد جانیں ضائع

وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان کے حادثے میں سو سے زائد جانیں ضائع
سطی افریقی جمہوریہ کے مغربی حصے میں واقع ایک سونے کی کان میں زبردست حادثہ پیش آیا ہے، جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور متعدد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ یہ واقعہ کامیرون کی سرحد کے قریب واقع زامبوئے گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک غیر منظم (آرٹیسنل) سونے کی کان منہدم ہو گئی ہے مقامی حکام اور ریسکیو ٹیموں کے مطابق، اس کان میں متعدد زیرِ زمین سرنگیں یکدم گر گئیں، جس سے ایک بڑا ملبہ پھیل گیا۔ ریڈ کراس کے رضاکاروں اور مقامی عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایک ریڈ کراس رضاکار کے مطابق، اب تک 107 سے زائد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، اور توقع ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ بہت سے مزدور ابھی تک ملبے تلے دبے ہیں ریسکیو ٹیموں اور مقامی رہائشیوں نے متاثرین کو نکالنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، مگر اس سلسلے میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ جیریمی نگبیری، جو خود اس کان میں کام کرتے تھے اور جنہوں نے اس حادثے میں اپنے بھائی اور ایک دوست کو کھو دیا، نے بتایا کہ امدادی کارروائی کے لیے ضروری آلات اور مہارت کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امدادی کارروائی کے دوران کچھ متاثرین دم گھٹنے سے جان بحق ہوئے
واضح رہے کہ وسطی افریقی جمہوریہ میں اس طرح کے حادثات عام ہیں، جہاں ہزاروں افراد غیر محفوظ طریقوں سے چھوٹے پیمانے پر کان کنی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بارشوں کی وجہ سے زمین کمزور ہوجاتی ہے اور کانوں کی دیواریں غیر مستحکم ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے مٹی کھسک جانے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔
یہ دکھ کی بات ہے کہ یہ واحد واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی جون کے مہینے میں اسی علاقے میں اسی طرح کا حادثہ پیش آیا تھا جس میں درجنوں افراد جان سے گئے تھے۔بنگوئی کے پبلک پراسیکیوٹر آفس نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے، تاہم ابھی تک ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی گئی۔ کان کنی کے وزیر روفن بینام بیلٹونگو نے متاثرین کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور غیر محفوظ طریقوں سے کان کنی کرنے والوں کو خبردار کیا۔یہ حادثہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ غیر منظم کان کنی اور حفاظتی اقدامات کی کمی کے نتیجے میں کس طرح معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *