سندھ میں گندم کی قلت اور آٹے کی بڑھتی قیمتیں ناقابلِ قبول، حکومتیں 72 گھنٹوں میں ٹھوس لائحہ عمل دیں: حیدرآباد چیمبر
عوام کو مہنگے آٹے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، نجی شعبے کو فوری درآمد کی اجازت اور سرکاری ذخائر کی شفاف جانچ یقینی بنائی جائے: صدر ندیم احمد صدیقی سمیت دیگر عہدیداران کا مطالبہ
حیدرآباد( )حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر ندیم احمد صدیقی، سینئر نائب صدر محمد فہد میاں اور نائب صدر عرفان عاربیانی نے سندھ سمیت ملک میں گندم کی دستیابی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو سستی اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری، مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آٹا عام آدمی کی بنیادی ضرورت ہے، کوئی تعیش کی چیز نہیں کہ اس کی قیمتیں عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو جائیں۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ بحران شدت اختیار کرنے سے پہلے فیصلے کریں، نہ کہ قلت پیدا ہونے کے بعد وضاحتیں پیش کی جائیں۔
چیمبر کے عہدیداران نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت نجی شعبے کو فوری طور پر واضح، شفاف اور غیر امتیازی پالیسی کے تحت گندم درآمد کرنے کی اجازت دے تاکہ مقامی ضروریات پوری کرنے، رسد میں بہتری لانے اور آٹے کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے سندھ حکومت اور محکمہ خوراک سے مطالبہ کیا کہ سرکاری گوداموں میں موجود گندم کے ذخائر کی فوری اور شفاف جانچ کرائی جائے، ناقص اور انسانی استعمال کے لیے ناموزوں گندم کو الگ کیا جائے اور فلور ملز کو صرف معیاری گندم فراہم کی جائے۔
عہدیداران نے کہا کہ گندم کی غیر یقینی فراہمی اور پالیسی میں تاخیر کا بوجھ عوام پر مہنگے آٹے کی صورت میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ اسی طرح فلور ملز کو خام مال کی قلت کے باعث پیداوار بند کرنے یا محدود کرنے کی نوبت نہیں آنی چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف آٹے کی فراہمی متاثر ہوگی بلکہ روزگار، متعلقہ کاروبار اور مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔حیدرآباد چیمبر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ آئندہ فصل کی آمد تک گندم کی طلب، دستیاب ذخائر، درآمدی ضروریات اور تقسیم کے نظام پر مشتمل ایک مربوط پالیسی مرتب کی جائے۔ ربیع سیزن میں پانی کی ممکنہ کمی کے پیش نظر اگلی فصل کے تحفظ اور غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
چیمبر کے تینوں عہدیداران نے زور دیا کہ وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ اور متعلقہ محکمے آئندہ 72 گھنٹوں میں گندم کے ذخائر کی تصدیق، نجی درآمدات کی اجازت، سرکاری گندم کی معیاری فراہمی اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے واضح لائحہ عمل کا اعلان کریں۔ محض اجلاسوں، بیانات اور اعلانات سے بحران حل نہیں ہوگا؛ عوام کو عملی اقدامات اور ان کے نتائج درکار ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور صوبائی وزیر خوراک سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ روٹی عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی فراہمی میں غفلت یا غیر ضروری تاخیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حیدرآباد چیمبر اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت، فلور ملز انڈسٹری اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم عوام کو مہنگائی اور صنعت کو غیر یقینی صورتحال کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔