حیدراباد محکمہ خوراک حیدراباد کی جانب سے اٹا چکیوں اور رولر فلور ملز کو بدھ کی شام تک بھی گندم کوٹہ کے چالان کا اجراء ممکن نہ ہو سکا

حیدراباد محکمہ خوراک حیدراباد کی جانب سے اٹا چکیوں اور رولر فلور ملز کو بدھ کی شام تک بھی گندم کوٹہ کے چالان کا اجراء ممکن نہ ہو سکا 14 اکتوبر کو سندھ سیکرٹیریٹ سے انے والی گندم کی ایلوکیشن ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ کے افس تک محدود ہو کر رہ گئی ڈپٹی کمشنر حیدآباد نے آٹا کے سرکاری نرخ دینے سے مبینہ طور پر ہاتھ اٹھالئیے ڈی ایف سی کو آگے کرنے کی اطلاعات جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوز اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کرتے دکھائی دے رہے ہیں ذرائع کے مطابق حیدراباد کے اٹا چکی مالکان کو بھی سسٹم میں لانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں ضلعی انتظامیہ اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں کو کنٹرول کرنے اور محکمہ خوراک حیدراباد کے افس سے اٹا چکیوں اور رولر فلور ملز کو ایلوکیشن آنے کے ایک ہفتہ گزر جانے کے باجود سرکاری گندم کوٹہ کے چالان جاری کروانے کے کے بجائے اٹا چکیوں اور دکاندار حضرات پر چھاپہ مار کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی کی یک طرفہ کاروائیوں سے نہ تو گندم اور نہ ہی اٹے کے نرخوں میں کسی قسم کی کمی واقع ہو رہی ہے اور نہ ہی محکمہ خوراک حیدراباد سرکاری گندم کوٹے کے چالان کا اجرا کر رہا ہے حیدراباد کی ضلعی انتظامیہ اوپن مارکیٹ میں گندم کے تیزی سے بڑھتے ہوئے نرخوں کو کنٹرول کر سکی ہے اور نہ ہی ذخیرہ اندوزوں کو اپنی من مانیوں سے روکا جا سکا ہے ضلعی انتظامیہ محض کاروائیوں اور جرمانے تک محدود دکھائی دیتی ہے شہری بدستور مہنگا اٹا خریدنے پر مجبور پرائس کنٹرول کمیٹی کی یک طرفہ کاروائیاں بھاری جرمانےآٹا چکیاں سیل کرکے کارخانے کی چابیاں اپنے ساتھ لیجانے پر چکی مالکان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر افس سے اٹا چکیوں رولر فلور ملز کو سرکاری گندم کوٹے کے چالان کا اجرا نہ ہونے کی وجہ سے آٹا چکی اور رولر فلور ملز مالکان کا احتجاج گندم چالان جاری کرنے کا مطالبہ ذرائع کے مطابق سیکریٹری خوراک سندھ کی جانب سے 14 اکتوبر کو جاری کردہ سرکاری گندم کوٹے کی ایلوکیشن ڈپٹی ڈائریکٹرفوڈ حیدراباد کو موصول ہونے کے باوجود بدھ 21 اکتوبر تک گندم کے چالان کا اجرا نہیں کیا جا سکا ہے دوسری جانب ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنرزنے اپنی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے حیدراباد میں گندم اور اٹے کے تیزی سے بڑھتے ہوئے نرخوں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کے افسران کی تسلی بخش کارکردگی نہ ہونے کی وجہ سے عوامی حلقے بھی شدید نقطہ چینی کرتے دکھائی دیتے ہیں ذرائع کے مطابق حیدراباد کے تین فوڈ گرین گوداموں جن میں ساسو گودام ہٹری حالی روڈ فوڈ گرین گودام اور پاسکو گودام سائٹ ایریا شامل ہیں پر گندم اسٹاک نہ ہونے کی وجہ سے حیدراباد کی اٹا چکیوں اور رولر فلور ملز کو کوٹری کے بھولاری فوڈ گرین گودام سے گندم فراہم کرنے کی اطلاعات ہیں جس سے ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کی وجہ سے اٹے کی قیمت میں نمایاں کمی ہوتی ممکن دکھائی نہیں دیتی دوسری جانب حکومت کی جانب سے امپورٹ گندم کا پہلا جہاز سندھ میں اطلاعات کے مطابق نومبر کے دوسرے ہفتہ لنگر انداز ہوگا یہ تمام صورتحال ذخیرہ اندوزوں کے علم میں بخوبی ہے جس کو بنیاد بنا کر انہوں نے اب تک گندم کو اپنے کنٹرول میں کیا ہوا ہے اور اپنی مرضی سے اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں کمی بیشی کرتے رہتے ہیں جنہیں سندھ بھر کی ضلع انتظامیہ روکنے میں اب تک بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے ذرائع کے مطابق حیدراباد کی اٹا چکیوں کو اسٹون پالیسی کے تحت انتہائی قلیل گندم کوٹہ دیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں جس سے انے والے دنوں میں حیدراباد میں گندم اور اٹے کا بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جس جانب حکومت اور ضلع انتظامیہ کو سنجیدہ کوشش کرنا ہو گی تاکہ شہری سرکاری نرخوں پر اٹا خرید سکیں

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *