



*سندھ زرعی یونیورسٹی میں یومِ سیاہ کشمیر، طلبہ کے تقریری و کوئز مقابلے*
_کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سندھی، اردو تقریری مقابلے اور ’’کشمیر اور پاکستان‘‘ کے موضوع پر کوئز کا انعقاد، نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں میں انعامات تقسیم_
ٹنڈوجام (پریس ریلیز) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یومِ سیاہ کشمیر منایا گیا، جس کے تحت طلبہ و طالبات میں مسئلہ کشمیر سے متعلق آگاہی اور اظہارِ خیال کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے سندھی و اردو تقریری مقابلے اور ’’کشمیر اور پاکستان‘‘ کے موضوع پر کوئز مقابلے منعقد کیے گئے۔ مقابلوں میں طلبہ و طالبات نے بھرپور حصہ لیا، جبکہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔اسٹوڈنٹ ٹیچرز انگیجمنٹ پروگرام (اسٹیپ) کی ڈیبیٹ سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر اے ایم شیخ آڈیٹوریم میں تقریری مقابلے منعقد ہوئے، جبکہ فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن میں کوئز مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ دونوں تقریبات میں وائس چانسلر سندھ زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر الطاف علی سیال نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ تعلیمی ادارے نوجوان نسل میں قومی شعور، ذمہ داری اور اہم قومی معاملات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کے ساتھ طلبہ کے لیے صحت مند اور مثبت ہم نصابی سرگرمیوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔چیئرمین اسٹیپ ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر نے کہا کہ تقریری اور کوئز مقابلے طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے، تحقیق و مطالعے کی عادت پروان چڑھانے اور اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔سندھی تقریری مقابلے میں کامران احمد سومرو نے پہلی، جنید علی سیال نے دوسری اور ہمت علی پسیو نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ اردو تقریری مقابلے میں محمد فیصل پہلے، جواد احمد دوسرے اور علیشبہ احمد تیسرے نمبر پر رہے۔کوئز مقابلے میں ’’اچیورز‘‘ ٹیم کے شمس الدین، علی رضا اور مشویق نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ’’کاکروچ جنتا‘‘ ٹیم کے نیر چانڈیو، فیضان اور جے پرکاش دوسرے، جبکہ ’’برین پزلرز‘‘ ٹیم کی حوریہ، ایمان عباسی اور مریم تیسرے نمبر پر رہیں۔تقریبات میں ڈین ڈاکٹر عبدالمبین لودھی، ڈاکٹر عمران کھتری، ڈاکٹر ظہیر احمد خان، ڈاکٹر عرفان احمد گلال،شکیل احؐد چٹھہ سمیت دیگر اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔