
تحریر: سکندر بیگ مرزا
دنیا کی تاریخ میں آج تک ہزاروں جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن میں کئی سو کروڑ انسان ان جنگوں کا ایندھن بن چکے ہیں گوگل کے مطابق اس وقت کراہ ارضی پر آباد انسانوں کی کل تعداد آٹھ سو تیس ارب کے لگ بھگ ہے جن میں دو سو ارب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے جو مشرق وسطی بر صغیر افریقہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں آباد ہیں خلافت عثمانیہ اور ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلم اکثریت والے علاقے وقفے وقفے سے عالمی طاقتوں کے پلے گراؤنڈز بنے ہوئے ہیں جنگ عظیم دوم (1939 سے 1945) میں آٹھ کروڑ پچاس لا کھ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے اس کے بعد پاک بھارت ویت نام اور افغانستان کی جنگوں میں بے شمار جانی اور مالی نقصان ہوا ایران عراق جنگ نے لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں کو نگل لیا 1979 میں افغانستان پر روسی قبضے کے نتیجے میں بعد ازاں نائن الیون کی آڑ میں تیس چالیس لاکھ افغانی اور پاکستانی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اگر نائن الیون کے بعد ہونے والے ٹی وی ٹاک شوز دیکھیں یا اخبارات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ایک بہانہ تھا اصل نشانہ افغانستان میں ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی ملاں عمر کی اسلامی حکومت تھی اس کے علاوہ افغان جہاد میں شامل جہادیوں کی بروقت بیخ کنی کرنا مقصود تھا اس دور میں امریکی دانشور نوم چومسکی سمیت بہت سارے جنگی مبصرین کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک کا اگلا نشانہ عراق اردن شام لیبیا سوڈان ترکی ایران اور پاکستان ہوں گے دنیا نے دیکھا کہ ان کے تجزئیے سو فیصد درست ثابت ہوئے یہ سب ماضی قریب کے واقعات ہیں جن لوگوں نے جنگوں میں حصہ لیا یا مشاہدہ کیا ان کی اکثریت ابھی زندہ موجود ہے اسلامی دنیا میں وہی کچھ ہوتا رہا جس کی پیشن گوئیاں کی جاتی رہی امریکیوں نے ان ممالک میں اپنی پراکسیز کی مدد سے ( جن میں داعش طالبان کرائے کے دہشت گرد اور ایجنسیاں شامل تھیں) بڑے پیمانے پر خون کی ہولی کھیلی گئی ان ملکوں کے انفراسٹرکچر تباہ کر دئے گئے ان کی دفاعی صلاحیت کو زیرو لیول پر کر دیا گیا ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے غلام ٹاوٹو ں کو عوام پر مسلط کر دیا گیا پٹرول گیس اور معدنی دولت سے مالا مال عرب ریاستوں میں فوجی اڈے قائم کرنے کے بعد انہیں گردنوں سے دبوچ لیا گیا اسرائیل کو خطے میں بدمعاش کا رول دے کر اس کی مکمل پشت پناہی کا ذمہ اپنے سر لے لیا ادھر فلسطینی حریت پسند بے شمار قربانیوں کے باوجود اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے سے انکاری رہے ہیں جب کہ بے پناہ مصائب اور معاشی مشکلات کے باوجود ایران واحد ملک ہے جو غیر مشروط طور پر فلسطینوں کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑا رہا بد ترین معاشی پابندیوں کے باوجود مشیت , ایزدی سے ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت میں بتدریج قابل رشک اضافہ کیا اس کے سائنسدان جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کو مہارت سے بروے کار لانے کامیاب رہے اپنی جوہری تنصیبات کی فول پروف حفاظت کا موثر انتظام کیا بھاری جانی اور مالی نقصان کے باوجود تہران میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ پر ایرانی پاسداران کا قبضہ مستحکم ہو چکا ہے نیٹو ممالک اور امریکہ کے پرانے اتحادی اس کا ساتھ دینے سے گریزاں ہیں ایرانی لیڈر شپ کی حرارکی اور ٹیئر موثر اور مربوط بنیادوں پر قائم ہے جب کہ امریکہ کو نا اہل اور ویژن سے عاری قیادت کا مسلہ درپیش ہے جہاں دیدہ مدبر دور اندیش اور امن پسند لیڈران کا شدید قحط ہے غیر مستقل مزاج اور جوکر ٹائپ لوگ اہم ترین ملکی ذمہ دادیوں پر فائز ہیں صدر ٹرمپ نے سعودی راہنما شہزادہ سلیمان کا تذکرہ جن تحقیر آمیز الفاظ اور لہجے میں کیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ ولی عہد کو ایران پر حملہ آور ہونے پر اکساتا رہا ہے امید ہے سعودی شہزادہ اپنے انکار پر مضبوطی سے ڈٹا رہے گا فریقین کے بیچ میں جنگ بندی اور ثالثی کے لئے پاکستانی قیادت کا رول لائق تحسین ہے سیز فائیر ایران امریکہ اسرائیل کے علاوہ ساری دنیا کے بہترین مفاد میں ہے چند خوف زدہ سائیکو پیتھ کمینے خلق , خدا کے دشمن بصیرت سے بے بہرہ ضمیر فروش مافیا امن عالم کے لئے شدید خطرہ بن چکے ہیں جہانبانی کے شوق میں مبتلا ان زر پرستوں نے حالات کو خطر ناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے آج پوری دنیا کے افق پر ایک مرتبہ پھر جنگ کے خوف ناک بادل منڈلا رہے ہیں جو کہ انسان دوست سنجیدہ عالمی راہنماوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے
یہ زمیں آفات سے دو چار ہے
زندگی صدمات سے دو چار ہے
جیت جاتے ہیں سگ, اوارگاں
آدمیت مات سے دو چار ہے
چھو لیا گر آسماں تو کیا ہوا
خلق تو ظلمات سے دو چار ہے
آنکھ بھر لائی سمندر شہر میں
ہر گلی برسات سے دو چار ہے
سکندربیگ مرزا
