حیدرآباد لطیف آباد نمبر 11 میں گیس سلنڈر دھماکے کے واقعے کے بعد ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن کی زیر صدارت نیو ڈی سی کمپلیکس میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، اجلاس ایس ایس پی شاہزیب چاچڑ، چاروں تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کمشنر حیدرآباد پولیس ڈی ایس پیز، میونسپل کارپوریشن، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں شہر میں حالیہ آتشزدگی کے واقعات، بالخصوص ایل پی جی سلنڈرز سے متعلق خطرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے ہدایت کی کہ گنجان آباد علاقوں میں ایل پی جی کی غیر قانونی فروخت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ صرف اوگرا سے منظور شدہ سلنڈرز اور قواعد کے مطابق کاروبار کی اجازت ہوگی، جبکہ ڈیکینٹنگ جیسے خطرناک عمل پر مکمل پابندی ہوگی۔
اس موقع پر ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ نے کہا کہ پولیس غیر قانونی ایل پی جی کاروبار کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے گی اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر سخت قانونی مقدمات درج کیے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے شہری علاقوں میں قائم غیر قانونی گوداموں اور رہائشی عمارتوں میں کمرشل سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت دی گئی کہ ایسی عمارتوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اور خستہ حال و غیر قانونی عمارتوں کو سیل کیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے میونسپل کارپوریشن کو فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب اور غیر فعال نظام کو فوری فعال بنانے کی ہدایت بھی کی، جبکہ ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کا حکم دیا گیا۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں گے اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
