






سی ای او ای این آئی نیوز ایجنسی پاکستان میجر (ریٹائرڈ) ساجد مسعود صادق کے دفتر میں ایک خاص ملاقات ہوئی جس میں دو معروف شخصیات محمد حسین سومرو اور راجہ اسد عبدالخالق نے شرکت کی۔ یہ ملاقات محض ایک معمولی سیاسی یا کاروباری ملاقات نہیں تھی بلکہ اس میں باہمی مفادات، علاقائی صورتحال اور ذرائع ابلاغ کے مستقبل جیسے سنگین موضوعات زیرِ بحث آئے۔ اس خوبصورت آفس میں جہاں دیواروں پر فوجی خدمات کی یادگاری تصاویر آویزاں تھیں وہاں موجود ہر فرد کی گفتگو میں ایک خاص سنجیدگی اور خلوص تھا۔ میجر صاحب نے اپنے تجربات کی روشنی میں پاکستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، اقتصادی چیلنجز، اور جنوبی ایشیا کے جغرافیائی سیاسی تقاضوں پر اپنی رائے رکھی۔ محمد حسین سومرو نے اپنے ذاتی مشاہدات کا تذکرہ کرتے ہوئے عوام اور حکومت کے درمیان بہتر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا جبکہ راجہ اسد عبدالخالق نے میڈیا کی ذمہ داریوں اور حقیقی خبروں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس دوران گفتگو کا مرکز ای این آئی نیوز ایجنسی پاکستان بھی رہا جسے ایک آزاد اور متحرک نیوز ایجنسی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تینوں حضرات نے اس ایجنسی کے کردار، اس کی خبروں کی صداقت اور اسے مزید موثر بنانے کے طریقوں پر غور کیا۔ میجر صاحب نے اس ایجنسی کو درپیش جدید چیلنجز خاص طور پر سوشل میڈیا کے دباؤ اور جعلی خبروں کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی بنانے کی تجویز دی۔
قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی یہ علمی اور گہری گفتگو جب اپنے اختتام کو پہنچی تو میجر صاحب نے مہمانوں کے اعزاز میں ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا۔ کھانے کے دوران رسمی پہلو کم ہو گئے اور بے تکلفی نے جگہ لی اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔
آخر میں جب محمد حسین سومرو اور راجہ اسد عبدالخالق نے رخصت لینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے میجر صاحب کے اس شاندار استقبال مہمان نوازی اور خاص طور پر اس قیمتی وقت کے لیے دل سے شکریہ ادا کیا۔ راجہ اسد نے جذباتی لہجے میں کہا کہ آج کی ملاقات ہمارے لیے نہ صرف معلوماتی تھی بلکہ اخلاقی طور پر بھی بہت تقویت بخش ہے۔ محمد حسین سومرو نے میجر صاحب کے ہاتھ مضبوطی سے دباتے ہوئے کہا کہ ایسی ملاقاتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ مشترکہ مفادات کے لیے سوچنا اور مل کر چلنا کتنا ضروری ہے۔یہ ملاقات ایک مثالی مثال تھی کہ کیسے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دانشور، اپنے اختلافات کو بھلا کر، قومی مفاد اور بہتر پاکستان کے لیے ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔ اور میجر صاحب کی اس پرتکلف دعوت نے اس پوری تقریب کو ایک یادگار لمحہ بنا دیا۔