
اسرائیل کا پانچ سالہ ہند رجب کی گاڑی پر فائرنگ کا تاریخی اعتراف
طویل عرصے سے انکار اور مبہم بیانات کے بعد، اسرائیلی فوج نے پہلی بار باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ اس کی فوجیوں نے غزہ میں پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔ اس اعتراف کے ساتھ ہی فوج نے اس واقعے کی فوجداری تحقیقات کا بھی اعلان کیا ہے، جو غزہ جنگ کے دوران سب سے زیادہ متنازع اور عالمی مذمت کا نشانہ بننے والے واقعات میں سے ایک تھا یہ واقعہ 29 جنوری 2024 کو پیش آیا، جب ہند اپنے چھ خاندان کے افراد کے ساتھ گاڑی میں سوار تھی اور غزہ شہر سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔ خاندان اسرائیلی فوج کی جانب سے علاقے کو خالی کرنے کی ہدایت کے بعد نقل مکانی کر رہا تھا ۔ راستے میں اسرائیلی فوجیوں نے گاڑی پر فائرنگ کردی۔ اطلاعات کے مطابق اس گاڑی پر 300 سے زائد گولیاں برسائی گئیں ۔اس حملے میں ہند کے چچا خالہ اور تین کزن سمیت پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ تاہم، ہند اور اس کی 15 سالہ کزن لیان حملے میں بچ گئیں ۔
ہند نے فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے امدادی کارکنوں سے فون پر رابطہ کیا اور گھنٹوں تک مدد کی التجا کرتی رہی۔ ریڈ کریسنٹ آپریٹر رانا فقیح نے ہند کے ساتھ طویل گھنٹے فون پر گزارے، اور بچی کی دہشت زدہ آواز نے دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کیا ۔
فون پر گفتگو کے دوران ہند نے بتایا کہ گاڑی کے سامنے اسرائیلی ٹینک موجود ہیں اور وہ ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ریڈ کریسنٹ آپریٹرز نے اسے سیٹوں کے نیچے چھپنے کا مشورہ دیا ۔ریڈ کریسنٹ نے اسرائیلی فوج سے رابطہ کرکے ایمبولینس بھیجنے کی اجازت طلب کی۔ تین گھنٹے کی کوششوں کے بعد، ایمبولینس کو ہند کو بچانے کے لیے بھیجا گیا۔ لیکن جیسے ہی ایمبولینس علاقے کے قریب پہنچی، اس پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں دو پیرامیڈیکس یوسف الزینو اور احمد المدھون بھی شہید ہو گئے ۔ فائرنگ کی آواز کے ساتھ ہی ہند کا فون بھی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔بارہ دن بعد ہند کی لاش گولیوں سے چھلنی گاڑی سے ملی، جس کے ساتھ اس کے چھ رشتہ داروں اور دو پیرامیڈیکس کی لاشیں بھی تھیں ۔اس واقعے کے فوری بعد اسرائیلی فوج نے سختی سے انکار کیا تھا کہ اس کے فوجی اس علاقے میں موجود تھے۔ فوج کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس کے فوجی “گاڑی کے قریب یا فائرنگ کی حد میں موجود نہیں تھے تاہم طویل عرصے بعد جاری کردہ ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا کہ اس کے فوجیوں نے اس گاڑی پر فائرنگ کی تھی جو ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ فوج کا کہنا تھا کہ گاڑی اس خبردارانی کے خلاف سفر کر رہی تھی جو فوج نے علاقے کے رہائشیوں کو دی تھی ۔ اس کے علاوہ، فوج نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہند کو بچانے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس پر بھی گولہ داغا گیا تھا اس اعتراف کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس واقعے کی فوجداری تحقیقات کی جائیں گی۔ یہ تحقیقات ملٹری پولیس کرمنل انویسٹی گیشن ڈویژن (MPCID) کے ذریعے کی جائیں گی ۔ فوج کا کہنا تھا کہ “فلسطینی ریڈ کریسنٹ ایمبولینس کی نقل و حرکت میں ہم آہنگی میں مبینہ ناکامیوں” کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ۔یہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے رویے کی پہلی فوجداری تحقیقات میں سے ایک ہیں۔ فوج نے 150 واقعات کا جائزہ لیا تھا، جن میں سے صرف چند کے لیے فوجداری تحقیقات کا حکم دیا گیا ہند رجب کا کیس عالمی سطح پر جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کی علامت بن گیا۔ اس واقعے کو اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن نے بھی نوٹ کیا، جس نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا — تاہم اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے ۔ ہند کی کہانی پر مبنی ایک فلم “دی وائس آف ہند رجب” 2026 میں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی ۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہند رجب فاؤنڈیشن نے اسرائیلی فوج کی داخلی تحقیقات پر شدید شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی داخلی تحقیقات شاذ و نادر ہی کسی فوجی کے خلاف سزا پر منتج ہوتی ہیں ۔ ہند رجب فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ “ان رپورٹ شدہ تحقیقات کو انصاف کی طرف حقیقی قدم نہیں سمجھا جانا چاہیے یہ اعتراف اگرچہ تاخیر سے آیا ہے، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل نے اس المناک واقعے میں اپنی ذمہ داری تسلیم کی ہے۔ تاہم، اس کے بعد کی جانے والی تحقیقات کی شفافیت اور نتائج پر اب بھی سوالیہ نشان موجود ہیں۔