
حیدراباد پاکستان مسلم لیگ فنکشنل تعلقہ لطیف أباد کی جنرل سیکریٹری ثمینہ لغاری اور ان کی کمسن بچی پر کرسچین کالونی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بااثر مسلح افراد کے حملے اہل خانہ کو ہراساں کرنے اور تھانہ بی سیکشن میں واقعہ کی ایف أئ أر درج ہونے کے باوجود پولیس کی جانب سے ملزمان کو گرفتار نہ کرنے جیسی صورتحال دھمکیوں کے خلاف ثمینہ لغاری نے اپنے شوہر گورنمنٹ ڈگری کالج کے پروفیسر سجاد حیدر اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ حیدراباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کرسچین کالونی کے رہائشی بااثر فیصل کھوکھر اس کا بیٹا شان مسیح اس کی اہلیہ رافیل داماد نوید جارج اور دیگر نے ان کے گھر پر حملہ کرکے اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئ ہے واقعہ کی رپورٹ درج کروانے تھانہ بی سیکشن پہنچے تو فیصل کھوکھر جنہیں ایڈیشنل ایس ایچ او انجم ابرار کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے ہمارے خلاف ایف أئ أر درج کروانے کے لئیے تھانے پرپہلے سے موجود تھا جو ہمیں دیکھ کر فرار ہوگیا ایس ایس پی حیدراباد شاہزیب چاچڑ کی مداخلت پر ملزمان کے خلاف پولیس نے بہ مشکل ایف أئ أر درج کی جس میں مذکورہ چاروں ملزمان کو نامزد کیا گیا تاہم پولیس اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کرسکی ہے اور وہ کھلے عام دندناتے پھیر رہے اور مقدمہ واپس لینے پر دباؤ ڈال رہے ہیں بصورت دیگر خطرناک نتائج بھگتنے کی دھمکیاں اور اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کررہے ہیں انہوں نے تھانہ بی سیکشن پولیس بالخصوص ایڈیشنل ایس ایچ او انجم ابرار کے رویہ اور ملزمان کی مبینہ سرپرستی کرنے جیسی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور اعلی حکام سے بااثر ملزمان کی فوری گرفتاری دھمکیاں دینے ہراساں کرنے کا نوٹس لینے سمیت جان و مال کے تحفظ کی اپیل کی ہے