
ایک خاتون کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی سینیٹرز کو نشانہ بنانے کے لیے بم بنانے کا منصوبہ بنایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مبینہ طور پر انہوں نے اس کام کے سلسلے میں خفیہ ایجنٹوں سے صرف 200 ڈالر وصول کیے — یہ رقم اس منصوبے کی سنگینی کے پیشِ نظر بہت معمولی سی لگتی ہے۔
ابھی تک پوری کہانی واضح نہیں، لیکن تحقیقات میں یہ سامنے آیا ہے کہ یہ خاتون کسی بڑی سازش کا حصہ تھیں یا پھر انہیں کسی نے پھنسایا۔ پولیس اور وفاقی ادارے معاملے کی گہرائی میں جا رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی یا سیاسی تشدد کی کوئی بھی کوشش، چاہے اس کا خرچ چاہے جتنا بھی کم ہو، انتہائی خطرناک ہوتی ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔