تین روزہ پانی بحران نے حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کارکردگی بے نقاب کردی،صدر حیدرآباد چیمبر سلیم میمن

تین روزہ پانی بحران نے حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کارکردگی بے نقاب کردی،صدر حیدرآباد چیمبر سلیم میمن
حیدرآباد(حیدراباد بیرو رپورٹ ) حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے حیدرآباد شہر میں گزشتہ تین روز سے جاری پانی کے شدید بحران، صاف پانی کی عدم دستیابی اور مختلف علاقوں میں گندے و بدبودار پانی کی فراہمی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ اداروں کی مسلسل نااہلی اور ناقص انتظامی کارکردگی سے سندھ کے دوسرے بڑے اقتصادی مرکز حیدرآبادکے تاجروں اور شہریوں کو پانی سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین روز کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے رہے، گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ دکانیں، مارکیٹیں، ریسٹورنٹس، دفاتر، چھوٹے کاروبار اور صنعتی یونٹس بھی شدید متاثر ہوئے۔ اگر ایک مین لائن یا بنیادی سپلائی لائن کی خرابی دور کرنے اور پانی کی فراہمی بحال کرنے میں تین سے چار دن لگ جائیں تو یہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ادارے کی تکنیکی استعداد، ہنگامی رسپانس، منصوبہ بندی اور انتظامی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کا بحران صرف پانی کی قلت کا بحران نہیں بلکہ پورے واٹر ڈسٹری بیوشن اور سیوریج انفراسٹرکچر کی خرابی کا نتیجہ ہے۔ شہر کی دہائیوں پرانی اور بوسیدہ پانی کی لائنیں، لیکیج، سیوریج لائنوں سے ممکنہ آمیزش، ناقص نکاسی آب اور کمزور پمپنگ سسٹم نہ صرف پانی کی فراہمی میں تعطل پیدا کررہے ہیں بلکہ پانی کے معیار کو بھی متاثر کررہے ہیں۔ سلیم میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے نئے فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر اور پانی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ایک مثبت اقدام ہے، لیکن صرف نئے پلانٹس بنانا کافی نہیں۔ اگر شہر کے اندر پانی کی ترسیل کا پرانا اور بوسیدہ نظام درست نہیں کیا جاتا تو فلٹریشن پلانٹس سے پیدا ہونے والا صاف پانی بھی شہریوں کے نلکوں تک صاف حالت میں نہیں پہنچ سکے گا۔ اصل ضرورت نئے پلانٹس کے ساتھ پرانے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی مکمل بحالی اور جدید کاری ہے۔صدر چیمبر نے کہا کہ حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ملازمین کی تقریبا 20ماہ سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ جس ادارے کے ملازمین خود طویل عرصے سے اپنے جائز واجبات کے لیے پریشان ہوں، وہاں فیلڈ آپریشنز، ملازمین کے مورال اور عوامی خدمات کی کارکردگی متاثر ہونا ایک فطری خدشہ ہے۔ حکومت کو اس مسئلے کا بھی فوری حل نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات کے باوجود حیدرآباد کے شہری آج بھی پانی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں تو اب صرف اجلاسوں، یقین دہانیوں اور کاغذی منصوبوں سے کام نہیں چلے گا۔ حکومت کو ادارے کی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر عملی اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ صدرچیمبر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پانی اور سیوریج کی خدمات کو مرحلہ وار معروف، تجربہ کار، مالی و تکنیکی طور پر مستحکم اور جوابدہ نجی کمپنیوں کو آؤٹ سورس کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقصد کسی ادارے یا ملازمین کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ شہریوں کو مؤثر، مسلسل اور معیاری سروس کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔محمد سلیم میمن نے کہا کہ حیدرآباد جیسے بڑے شہر میں 24 گھنٹے فعال ایمرجنسی رسپانس سسٹم ہونا چاہیے تاکہ مین لائن، پمپنگ اسٹیشن یا فلٹریشن پلانٹ میں خرابی کی صورت میں فوری طور پر مرمت اور متبادل پانی کی فراہمی کا انتظام کیا جاسکے۔ ایک خرابی کو تین دن کے بحران میں تبدیل کرنا کسی بھی جدید شہری نظام کے لیے قابل قبول نہیں۔انہوں نے سندھ حکومت، وزیر اعلیٰ سندھ، میئر حیدرآباد، کمشنر حیدرآباد اور حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد کے تمام علاقوں کا ایریا وائز واٹر سپلائی شیڈول فوری جاری کیا جائے، پانی کے ذرائع اور فلٹریشن پلانٹس کی حقیقی پیداواری صلاحیت و کارکردگی عوام کے سامنے لائی جائے، پانی کے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ کراکے نتائج شائع کیے جائیں، بوسیدہ اور لیکیج کا شکار لائنوں کی مرحلہ وار مکمل تبدیلی کی جائے، پانی اور سیوریج لائنوں کی آمیزش روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، پمپنگ اسٹیشنز کو بلا تعطل بجلی اور متبادل پاور بیک اپ فراہم کیا جائے، ٹینکر سسٹم کو شفاف اور قابل نگرانی بنایا جائے، اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا جامع مالی، انتظامی اور تکنیکی آڈٹ کرایا جائے۔محمد سلیم میمن نے کہا کہ حیدرآباد کے شہری مزید وعدے نہیں، پانی چاہتے ہیں؛ مزید اجلاس نہیں، عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ جس شہر کے عوام ٹیکس، پانی کے بل اور دیگر سرکاری واجبات ادا کرتے ہیں، انہیں پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کے لیے دربدر کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *