سندھی محبت کی زبان ہے، جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے: ڈاکٹر شیر مہرانی
زبان اتھارٹی بہترین کام کر رہی ہے: حبیب اللہ میمن
سندھی سیکھنے کے مراکز کو بھرپور پذیرائی ملی ہے: یاسر قاضی
کراچی (کلچرل رپورٹر): سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر شیر مہرانی نے لیاقت لائبریری میں قائم سندھی زبان سیکھنے کے مرکز کا دورہ کیا اور وہاں جاری کلاس کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے سندھی زبان سیکھنے کے لیے آنے والے طلبہ اور استاد سے ملاقات کی اور تدریسی عمل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شیر مہرانی نے کہا کہ سندھی محبت کی زبان ہے، جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ زبان رابطے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی قوم کی ثقافت، تاریخ، تہذیب اور شناخت کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھی زبان کی ترقی، فروغ اور ترویج کے لیے سندھی لینگویج اتھارٹی کی جانب سے مختلف مقامات پر سندھی زبان سیکھنے کے مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن کا مقصد سندھی زبان سیکھنے کے خواہش مند افراد کو آسان اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ ڈاکٹر شیر مہرانی نے کہا کہ سندھی زبان سیکھنے کے مراکز میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو سندھی زبان سیکھنے کا موقع مل رہا ہے، جو سندھی زبان کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے مراکز کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس موقع پر محکمۂ ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل حبیب اللہ میمن نے کہا کہ سندھی لینگویج اتھارٹی کی جانب سے سندھی زبان کے فروغ اور تدریس کے لیے بہترین کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھی زبان سیکھنے کے مراکز کا قیام ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، جس کے ذریعے سندھی زبان سیکھنے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو بہتر مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔
سندھی زبان سیکھنے کے مرکز کے استاد یاسر قاضی نے کہا کہ سندھی زبان سیکھنے کے مراکز کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سندھی زبان سیکھنے کے لیے ان مراکز کا رخ کر رہے ہیں، جو سندھی زبان سے لوگوں کی محبت اور دلچسپی کا ثبوت ہے۔ دورے کے دوران ڈاکٹر شیر مہرانی کے ہمراہ ڈی جی کلچر حبیب اللہ میمن، ڈائریکٹر کلچر سلیم سولنگی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر روح اللہ اور انجینئر زبیر کلوڑ نے کلاس کی تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے استاد اور طلبہ سے بھی گفتگو کی اور سندھی زبان کی تدریس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا۔
Posted inکراچی