
خلیجی سلامتی کے لیے امریکی اتحاد ناکافی، قطر کا اعتراف دوحہ نے ایک اہم موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد اگرچہ انتہائی اہم ہے، مگر اسے تنہا کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ خلیجی ریاستوں کو اپنی حفاظت کے لیے خود انحصاری پر زور دینا ہوگا۔انہوں نے ابوظہبی میں ایک فورم کے دوران کہا کہ ہمیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ علاقے میں بین الاقوامی افواج کی موجودگی اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد بہت ضروری ہے، مگر یہ کافی نہیں۔ سلامتی کے معاملے میں خود انحصاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ ہمیں اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کی ضرورت ہے، لیکن اپنی سلامتی کے لیے صرف ان پر انحصار نہیں کر سکتے۔یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خلیجی ممالک کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایران نے امریکی فوجی اڈوں کو بار بار نشانہ بنایا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ امریکی اپنے اڈوں کی حفاظت بھی یقینی نہیں بنا سکتے، خلیجی ممالک کی حفاظت کا سوال تو دور کی بات ہے ۔ قطر، جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ رکھتا ہے، خود بھی ایرانی حملوں کی زد میں رہا ہے، خاص طور پر اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ادھر یمن میں حوثی باغیوں نے ایک بار پھر سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ حوثیوں کا الزام ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے مختلف صوبوں میں فضائی حملے اور کروز میزائل حملے کیے، جس کے جواب میں انہوں نے کارروائی کی ۔ سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ حوثی حملوں میں پاکستانی سمیت 11 افراد زخمی ہوئے، جن میں 7 سعودی شہری، ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شامل ہیں ۔سعودی حکام کو خدشہ ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی نگرانی میں عراقی ملیشیا اور یمن کے حوثی باغی شمال اور جنوب سے مشترکہ حملے کر سکتے ہیں۔ اس لیے سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون مزید مضبوط کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا مؤثر جواب دیا جا سکے ۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پورا مشرق وسطیٰ جنگ کی آگ میں گھرا ہوا ہے۔ حوثیوں نے باب المندب میں سعودی جہازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں ۔ خلیجی ممالک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایرانی خطرے کے خلاف اجتماعی علاقائی حکمت عملی وضع کرنے میں ناکامی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ہر ملک نے انفرادی طور پر اپنی حفاظت کے انتظامات کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ خلیجی ممالک اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں وہ امریکی تحفظ پر مکمل انحصار نہیں کر سکتے اور انہیں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو خود مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ قطر کا یہ موقف اس نئی حقیقت کا آئینہ دار ہے جس میں خلیجی ریاستوں کو اپنی سلامتی کے لیے خود انحصاری اور علاقائی تعاون دونوں پر توجہ دینی ہوگی۔