مزیدصوبوں کا سوال: ایموشنل بلیک میلنگ نا منظور

میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی

	 23 مارچ 1843ء کو شہید ہونے والے  تالپور فوج کے سپہ سالار اور سندھ کے تاریخی ہیرو "ہوش محمد شیدی"  نے انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئےصدیوں پہلے ایک  نعرہ لگایا "مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں۔" یہی وہ نعرہ اور نیریٹیو ہے جس کا  پیپلز پارٹی کی قیادت نے کئی بار  پاکستانی سیاست میں استعمال کیا۔ چند دن پہلے سندھ اور اسمبلی کے فلور پر یہی نعرہ فریال تالپور نے ایک بار پھر بُلندکیا لیکن اس دفعہ یہ انگریزوں کے خلاف نہیں بلکہ عوامی  مُفادات کے خلاف اور اُن سے مُتصادم ہے۔ کیونکہ اس دفعہ سندھ پر کوئی بیرونی یلغار نہیں ہورہی بلکہ سندھ کو اندرونی یلغار یعنی گورننس کی بدحالی  اور لاقانونیت سے بچانے کے لیئے مزید صوبوں میں تقسیم کرنا ناگزیر ہے۔ سندھی عوام کی ابتری چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہے کہ یہاں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں۔ کراچی  جو  آبادی کے لحاظ سے دُنیا کے دس بڑے شہروں میں شامل ہے مگر کراچی میں پینے کا صاف پانی،میڈیکل کی سہولت اور اشیائے خوردونوش جیسی بُنیادی ضروریات کی صورتحال درد ناک ہے۔ چند پوش علاقوں کو چھوڑ  سڑکیں ٹُوٹی پُھوٹی اور کرائم ریٹ اپنی انتہاؤں کو چُھو رہا ہے۔
 اسی طرح سن 1990ء کے عام انتخابات کے دوران نواز شریف نے اسلامی جمہوری اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے   پنجاب میں بے نظیر بھٹو کے خلاف ووٹ لینے کے لیئے نعرہ لگایا  "جاگ پنجابی جاگ، تیری پگ نوں لگ گیا داغ۔"  آج سن 2026ء میں یہی نعرہ وزیراعلٰی پنجاب لگا رہی ہیں جو کہ نوازش شریف کی صاحبزادی اور اُن کی سیاسی جاں نشین ہیں۔ آئینِ پاکستان کے مطابق پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور اس کے حقیقی مالک پاکستانی عوام ہیں یہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔  یہ حقیقت ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں نون لیگ کی حکومت ہے اور یہ دونوں وہ پارٹیاں ہیں جنہوں نے اس مُلک پر دونوں صوبوں پر تسلسل اور مرکز میں بھی کئی بار حکومتیں بنائی ہیں۔ آج پاکستانی عوام بُنیادی سہولتوں کے فقدان اور مہنگائی کی وجہ سے بُلبُلارہے ہیں اور اُن کا کوئی پُرسان حال نہیں جبکہ  مُلک کنگھال اور  ان دونوں پارٹیوں اور ان کے سربراہان کے اثاثے اور کاروبار کھربوں میں ہیں۔ آج اگر پاکستان میں کسی اچھے کام پر یہ دونوں پارٹیاں حق جتاتی ہیں تو پاکستانی عوام کی تمام محرومیوں کی ذمہ دار بھی یہی دونوں پارٹیاں ہیں۔ 

 	اگر پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی علاقائیت کی بنا پر تقسیم کی جائے تو ان میں سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی چار بڑی قومیں آباد ہیں۔  پاکستانی سیاست میں کشمیریوں، شمالی علاقہ جات اور سرحدی صوبے (کے پی کے)  کی سیاسی اشرافیہ  نے کبھی بھی علاقائی سیاسی کارڈکا غلط استعمال نہیں کیا۔ تاہم بلوچ، پنجابی او سندھی قیادت متعدد بار  علاقائی کارڈز  کی بنا پر اپنے  صوبوں کے عوام کو ایموشنل بلیک میل کرکے  اُن کی  طاقت کو اپنے ذاتی سیاسی مُفادات کے لیئے  استعمال کرتےرہے ہیں۔ یہ پاکستانی تاریخ کا حصہ ہے کہ   بین الاقوامی  استعماری قوتوں کے علاوہ  بھارت اور افغانستان پختون قوم کو پاکستان کے خلاف ورغلاتی اور بہکاتی رہی ہیں اور اس بیرونی نیریٹیو کی کسی حد تک چند قومیت پرست سیاستدان اور مذہبی رہنماء بھی اپنے اپنے ایجنڈے اور مُفادات کے لیئے ہمنوائی کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح آج کل مُلک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی پارٹی ہونے کا دعوٰی کرنے والی ایک سیاسی جماعت  نے بھی ذاتی مُفادات کی خاطر مرکز ی حکومت مخالف اپنا سیاسی قلعہ بنا رکھا ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ علاقائیت کی بنا پر مختلف اقوام کے رسم و رواج، رہن سہن اور طور طریقوں میں فرق ہواکرتا ہے اور یہ کوئی معیوب بات بھی نہیں۔ اس میں بھی کوئی دورائے نہیں کہ مختلف اقوام کی تہذیبوں کی اخلاقی اقدار پر اُن کے نظریات اور جغرافیے کے گہرے اثرات ہوتے ہیں۔ مذہب دراصل وہ قوت ،عنصر اور الہامی رہنمائی اور بندوبست ہے جو ان اخلاقی اقدار، رسم و رواج اور طور طریقوں کو اپنے اندرسمو کر ان کی خامیوں کودورکرکے انسانوں کی فلاح کا راستہ نکالتا ہے۔ بانیانِ پاکستان میں علامہ اقبالؒ کی شاعری اورقائداعظم محمدعلی جناحؒ کے سیاسی افکار کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائےتو انہوں نے حقیقی جمہوریت کی کبھی مخالفت نہیں کی تاہم علامہ اقبالؒ نے مغربی جمہوریت کی آڑ میں چُھپا مغربی قوتوں کا انسانیت مخالف ایجنڈا ضرور بے نقاب کیا ہے۔ اور یہ ایجنڈا کم تعلیم یافتہ یا پسماندہ علاقے کے لوگوں کی “ایموشنل بلیک میلنگ” ہے جس سے علامہ اقبالؒ نالاں نظرآتے ہیں۔ اور علامہ اقبالؒ کے جمہوریت کے بارے افکار کی حقانیت کو پاکستان میں رائج جمہوریت میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔
ایران کی کل آبادی تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ ہے اور اسے انتظامی طور پر 31 صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ امریکہ کی کل آبادی 50 ریاستوں (صوبوں) اور ایک وفاقی دارالحکومت پر مُشتمل مُلک امریکہ کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اسی طرح جاپان کی کل آبادی تقریباً 12 کروڑ 30 لاکھ ہےجبکہ انتظامی لحاظ سے جاپان کو 47 پری فیکچرز (صوبوں) میں تقسیم کیا گیا۔ اسی طرح فرانس کی آبادی تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 80 لاکھ کے درمیان ہے جبکہ یہ ملک 18 انتظامی خطوں یا علاقوں پر مُشتمل ہے۔ ملائیشیا کی کل آبادی تقریباً 34.4 ملین سے 36.4 ملین کے درمیان ہے اور یہ انتظامی طور پر 13 ریاستوں (صوبوں) اور 3 وفاقی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح روس کی کل آبادی تقریباً 146 ملین ہے جبکہ پورا مُلک 89 وفاقی اکائیوں پر مشتمل ہے۔ آبادی کے لحاظ پنجاب روس کے قریب،جاپان کے برابر، ایران، ملائیشیا، فرانس اور برطانیہ سے بڑا ہے۔ اسی طرح سندھ کی آبادی فرانس اور برطانیہ کے قریب ہے۔ پاکستان کو اگران ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونا ہے تو مزید صوبے بنانا لازمی ہیں۔
پاکستان کے اندرونی مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ گورننس کا ہے جس کی وجہ سے کرپشن، اقربا پروری، وسائل کی صوبوں میں تقسیم اور بے چینی، سیاسی کشمکش اور معاشی کمزوری جیسے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جدید فلاحی اسلامی ریاست بنانے سے روکتے ہیں۔ گورننس کو بہتر اور اسمارٹ بنائے بغیر کسی مسئلے کا حل ناممکن ہے اور گورننس پنجاب اور سندھ کو مزید صوبوں میں تقسیم کیئے بغیربہتر کی نہیں جاسکتی۔ پاکستان میں مزیدصوبوں کے قیام کی بحث کے ساتھ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے جبلتی نفرت کی بنا پر چند وی لاگرز اور نام نہادمُفکر ایک نیاموضوع اور نیریٹیو پروموٹ کررہے ہیں۔ ان ناعاقبت اندیش “مالیخولیا کے مریضوں” کے نزدیک اسٹیبلشمنٹ کے اس نئے پراجیکٹ کا مقصد “مزیدصوبوں کا قیام ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا دو بڑی سیاسی پارٹیوں کو سائیڈلائن کرکے نیا سیٹ اپ تیار کرنا ہے۔” باشعور پاکستانی عوام یہ جانتی ہے کہ اُن کے مُفادات بہتر اور اسمارٹ، کرپشن فری اور برق رفتار حکومتی ڈھانچے کے بغیر ناممکن ہے اسی لیئے سندھ اور پنجاب کی مزید صوبوں میں تقسیم ناگزیر ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *