
احمد خان لغاری
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کرپشن اور رشوت ستانی کے خلاف جو حالیہ مہم شروع کی ہے، اگر یہ مہم محض چند دن کی کاروائی نہ ہے بلکہ ایک مستقل انتظامی پالیسی میں تبدیل ہوجائے تو پنجاب کے سرکاری نظام میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ وزیر اعلی نے واضع طور پر کہا ہے کہ کرپشن کے خلاف زیروٹالرنس ہوگی، حتیٰ کی معمولی رقم کی رشوت بھی نظر انداز نہیں کی جائیگی، جبکہ عوام کو شکایات کیلئے ہیلپ لائن بھی فراہم کردی گئی ہے۔ ابتدائی نتائج بحر حال سامنے آناشروع ہوگئے ہیں، 5ستمبر کی سرکاری رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کرپشن کے الزامات پر 54افسران و اہلکاران کے خلاف معطلی، برطرفی، گرفتاری اور مقدمات کی کاروائی ہوئی۔ ان سب سے نمایاں کاروائی محکمہ خوراک کے خلاف ہے جہاں 48افسران و اہلکاران کو مختلف نوعیت کی کاروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد فوڈ گرین انسپکٹر اور دیگر اہلکار ملازمت سے برطرف کیے گئے، جبکہ کئی فوڈ کنٹرولرز کے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کی گئی۔ محکمہ انٹی کرپشن کی کاروائیوں میں وہاڑی، شیخوپورہ، فیصل آباد، بہاولنگر، منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ کے مختلف محکمہ جات کے ملازمین کی گرفتاریاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کاروائی واقعی بڑے مگرمچھوں تک پہنچ رہی ہے؟ عوام کو حد سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب معمولی اہلکار چند ہزار روپے لیتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس رشوت کے نظام کو تحفظ کون دیتا ہے؟ پٹواری اکیلا زمین کا ریکارڈ تبدیل نہیں کرسکتا، تحصیل کا نظام اکیلا نہیں چلتا، کسی غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم کا پورا کھیل ایک کلرک کے بس کی بات نہیں، سرکاری زمین پر قبضہ صرف چند غنڈوں کے ذریعے برقرار نہیں رہتا۔ جہاں کروڑوں اور ربوں روپے کا معاملہ ہو وہاں کئی سطحوں پر دستخط، منظوری، خاموشی اور سرپرستی درکار ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ کاروائی صرف چھوٹے اہلکاروں تک محدود رہتی ہے یا ان لوگوں تک بھی پہنچتی ہے جو سرکاری نظام میں بیٹھ کر بڑے مالی مفادات کے فیصلے کرتے ہیں۔ خاص طور پر زمینوں کے معاملے عوام کیلئے سب سے زیادہ حساس ہیں۔ قبضہ مافیا، جعلی انتقالات، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں، کالونیوں کے نام پر پلاٹوں کی غیر قانونی فروخت اور شہریوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ہتھیانے والے عناصر کے خلاف اگر واقعی بلا امتیاز کاروائی ہوتی ہے تو اس کا اثر عام آدمی براہ راست محسوس کرے گا۔ پنجاب حکومت پہلے ہی قبضہ مافیا کے خلاف قانون سازی اور ملکیتی حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کا اعلان کرچکی ہے۔مگر قانون بنانا اور قانون پر عملدرآمد کرانا دو مختلف چیزیں ہیں۔ حال ہی میں محکمہ سول ڈیفنس کے خلاف ہونے والی کاروائی بھی غیر معمولی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اہلکاران معطل اور کئی افسران تبدیل ہوئے۔ حالانکہ اس محکمہ کے پاس ایسے کوئی اختیارات بھی نہیں ہیں لیکن اس کے خلاف کاروائیاں جو خود محکمہ کے سربراہ نے کی ہیں اور شاید ابھی مزید محکموں کے سکریٹری صاحبان اپنے محکمہ کے بدنام افسران و اہلکاران کے خلاف کاروائی کرکے پنجاب حکومت کے کرپشن اور رشوت ستانی کے خلاف مہم کو کامیاب بنانے مئیں کاروائی کرکے اس مہم کو کامیاب بنانے کا تاثر ضرور دیں گے۔ یہ کاروائی اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس سے ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے، کیا حکومت کا احتساب کا پیمانہ تمام محکموں کیلئے یکساں ہوگا، اگر سول ڈیفنس کے اہلکاروں کے خلاف اتنی بڑی کاروائی ہوسکتی ہے تو ریونیو، بلدیات، پولیس، ہاؤسنگ، رجسٹری، محکمہ مال اور دوسرے ایسے محکموں میں اسی رفتار سے احتساب کیوں نہ ہو۔ جہاں عوام روزانہ اپنے مسائل لیکر پہنچتے ہیں؟
یہاں حکومت کو ایک اور خطرے بھی بچنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اہلکار رشوت لینے سے تو ڈریں مگر فائل چلانے سے ہی خوفزدہ ہوجائیں۔ ایک سرکاری ملازم اگر یہ سمجھنے لگے کہ ہر فیصلے پر گرفتاری ہوسکتی ہے تو وہ کام کرنے کے بجائے مسائل روکنے کو محفوظ طریقہ اور درست راستہ سمجھے گا۔ یوں رشوت ختم نہیں ہوگی، صرف تاخیر کا نیا دروازہ کھل جائیگا۔ اس لیے کرپشن کے خلاف کاروائی کے ساتھ کارکردگی کا نظام بھی ضروری ہے۔ ہر دفتر کے کام کی مدت مقرر ہو ہر شہری کو معلوم ہوکہ فرد کتنے دن میں ملے گی، رجسٹری کتنے وقت میں ہوگی، ڈومیسائل کب بنے گا؟ پولیس شکایت پر کتنے گھنٹے میں کاروائی ہوگی اور سرکاری فائل کس میز پر کتنے دن سے پڑی ہے۔ ڈیجیٹل ٹریکنگ اس مسئلے کا بہترین علاج ہوسکتا ہے۔ حقیقی کامیابی گرفتار افراد کی تعداد نہیں ہوگی، اصل کامیابی یہ ہوگی کہ عام آدمی کو کس کام کیلئے سفارش نہ ڈھونڈنی پڑے۔ وہ پٹواری خانے جائے تو اسے معلوم ہوکہ قانون اس کے ساتھ ہے۔ وہ تھانے جائے تو ایف آئی آر کیلئے کسی بااثر شخص کافون نہ کروانا پڑے۔ وہ تحصیل دفتر جائے تو کلرک اسے یہ نہ کہے کہ “فائل تو چل جائے گی لیکن خرچہ ہوگا”۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وزیر اعلی کی موجودہ مہم کو اپنی اصل کامیابی ثابت کرنا ہوگی۔ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ پنجاب میں کرپشن کا خاتمہ شروع ہوگیا ہے۔ چند درجن گرفتاریاں یا سینکڑوں کاروائیوں کی اطلاعات ایک بڑے نظام کی بیماری کا مکمل علاج نہیں ہوتیں۔ لیکن اگریہ کاروائیاں مستقل نگرانی، شفاف تقریوں، ڈیجیٹل ریکارڈ، افران کی جواب دیہی اور بڑے مالی سکینڈل کی غیر جانبدرانہ تحقیقات سے جڑجائے تو نتیجہ مختلف ہوسکتا ہے۔ پنجاب کے عوام اس وقت صرف گرفتاریوں کی خبر یں نہیں چاہتے۔ وہ اپنی دفاتر میں عزت چاہتے ہیں۔ اپنے تھانے میں انصاف چاہتے ہیں پٹواری کے پاس رشوت کے بغیر کام چاہتے ہیں اور اپنی زمین کے بارے میں تحفظ چاہتے ہیں۔ حکومت پنجاب جانتی ہے کہ بڑے افسران کون ہیں جو اپنے اضلاع میں محض پٹواریوں اور کلرکوں کے علاوہ ایک بااعتماد افسر رکھا ہوتا ہے جو شام کو “صاحب بہادر سے “خصوصی فائلیں نکلواتے ہیں “۔ چند گرفتاریوں، معطلیوں، برطرفیوں کی آج خبریں کل یا کچھ عرصہ بعد وہی پرانا سوال زندہ ہوگا۔ ” صاحب کام قانون کے مطابق ہوگا یا کچھ خرچہ بھی کرنا پڑیگا”، اصل فیصلہ اب اُسی ایک سوال کا ہوتا ہے۔