
سرگودھا جاپانی وفد کا چک 9 ایم ایل بھلوال کا دورہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ اور پیداوار میں اضافے پر کسانوں سے مشاورت
تفصیلات کے مطابق جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA)، چیمبر آف فوڈ اینڈ ایگریکلچر پاکستان اور یونیورسٹی آف سرگودھا (ایگریکلچر کالج ) کے اشتراک سے تحصیل بھلوال کے نواحی علاقے چک 9 ایم ایل میں زرعی شعبے کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس “ایس ڈی جیز بزنس نیڈز کنفرمیشن سروے” منصوبے کے تحت منعقد کیا گیا جس میں زرعی ماہرین، یونیورسٹی آف سرگودھا کے اساتذہ، ترقی پسند کاشتکاروں اور جاپانی ماہرین نے شرکت کی۔جاپانی وفد کی آمد پر چیمبر آف فوڈ اینڈ ایگریکلچر پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید وقار حسین رضوی اور مقامی کسانوں نے ڈھول کی تھاپ پر پرتپاک استقبال کیا جبکہ مہمانوں کے اعزاز میں خصوصی فوک میوزک کا بھی اہتمام کیا گیا، جسے جاپانی وفد نے بے حد سراہا۔اجلاس کا بنیادی مقصد ٹریہالوز (Trehalose) کو زرعی فصلوں کے لیے بایو اسٹیمولنٹ کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر جاپانی زرعی ماہرین نے کسانوں سے فصلوں کی پیداوار، آبپاشی کے نظام، زیرِ زمین پانی کے استعمال، کھادوں اور زرعی ادویات کے استعمال سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
جاپانی ماہرین نے کسانوں سے دریافت کیا کہ وہ فصلوں کو پانی دینے کے لیے کس حد تک زیرِ زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں، موسمی تبدیلیاں پیداوار کو کس طرح متاثر کر رہی ہیں اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث انہیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔ وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص پنجاب کی زمین انتہائی زرخیز ہے، تاہم جدید زرعی معلومات، معیاری بیج، متوازن کھادوں کے استعمال، جدید مشینری اور سائنسی بنیادوں پر کاشتکاری کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
مرکزی جنرل سیکرٹری چیمبر آف فوڈ اینڈ ایگریکلچر پاکستان سید وقار حسین رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور سائنسی بنیادوں پر رہنمائی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ملکی زرعی شعبہ جدید خطوط پر استوار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں اور مقامی کاشتکاروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے سے زرعی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
اس موقع پر یونیورسٹی آف سرگودھا ایگریکلچر کیمپس کے ڈاکٹر محمد کامران نے کہا کہ ملکی معیشت اور زرعی شعبے کی ترقی کا انحصار جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہے۔ اگر کاشتکار جدید طریقۂ کاشت اختیار کریں تو زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔
کسانوں نے جاپانی ماہرین کو مقامی سطح پر درپیش زرعی مسائل، پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات سے بھی آگاہ کیا۔ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA) کے ماہرین نے کسانوں کے ساتھ گھل مل کر ان کے مسائل سنے اور پاکستان کے زرعی شعبے میں جدید جاپانی تجربات اور ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال پر تبادلہ خیال کیا