سرگودھا ہمارے تعلیمی اور امتحانی نظام میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے

سرگودھا ہمارے تعلیمی اور امتحانی نظام میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور حکومتی سطح پر اس سلسلے میں بہت زیادہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی جیسے عظیم اداروں میں بھی طلبہ کے داخلوں کے رجحان میں کمی آئی ہے، جو یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں جہاں امتحانی نظام کو مافیا سے آزاد کروانا ہے، وہیں تعلیمی نظام میں ایسی اصلاحات کرنا ہوں گی کہ ہمارے طالب علم تعلیم مکمل کرنے کے بعد جدید چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔ان خیالات کا اظہار بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سرگودھا کے کنٹرولر امتحانات نے میڈیا کے نمائندوں ملاکان محمد اصغر ، عمران گورائیہ، شیخ زاہد مقبول ، ثاقب الماس ، ملک فضل، فیصل نعیم ، اسجد چوہدری ، محمد کاشف ، رشید رانا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔کنٹرولر امتحانات نے کہا کہ یقیناً آج کے دور میں بھی امتحانی نظام کو ہائی جیک کرنے کے لیے مافیاز کام کر رہے ہیں۔ یہ دھمکیاں بھی دیتے ہیں، پیسہ بھی لگاتے ہیں اور کچھ نہ ہو تو معافیاں بھی مانگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی نسبت تعلیمی اداروں میں داخلے کے رجحان میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ، میرے خیال میں، یہ ہے کہ نوجوان سمجھتا ہے کہ موجودہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسے نوکری بھی نہیں ملے گی، تو پھر ایسی تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ؟انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے اور ٹیکنیکل تعلیم کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں بھی ایسی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں جن کے ذریعے نوجوانوں کو ایسی تعلیم دی جائے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ نہ صرف برسرِ روزگار ہوں بلکہ آنے والے چیلنجز کا مقابلہ بھی کر سکیں۔تعلیمی بورڈ سرگودھا میں حالیہ جماعت نہم کے امتحانات اور ماضی میں نتائج میں بعض بے قاعدگیوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یقیناً سسٹم میں کچھ خامیاں موجود ہیں، جنہیں بہتر کرنے کی کوشش ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہے اور اب بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈ سرگودھا اپنے وسائل خود پیدا کر رہا ہے اور حکومتی سطح پر کسی قسم کی مالی امداد نہیں لے رہا۔ اپنے وسائل طلبہ کی فیسوں سے ہی پورے کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس مرتبہ بھی فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔کنٹرولر امتحانات سرگودھا بورڈ نے ڈاکٹر نذر عباس مزید بتایا کہ جماعت نہم کے امتحانات میں جن خامیوں اور نتائج تبدیل کرنے کی شکایات موصول ہوئیں، ان پر سنجیدگی سے کارروائی اور بہتری کی کوشش جاری ہے۔ اگر کوئی بھی اہلکار اس میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مختلف محکموں سے ڈیپوٹیشن پر تعلیمی بورڈ کے چیئرمین تعینات کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کنٹرولر امتحانات نے کہا کہ یقیناً حکومت کی خواہش یہی ہے کہ بہتری کی کوشش کی جائے۔ اسی وجہ سے مختلف محکموں کے باصلاحیت افسران کو تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کے طور پر تعینات کیا جاتا ہے۔مزید سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سرگودھا تعلیمی بورڈ کی اسناد میں ایسے سکیورٹی فیچرز موجود ہیں جن کی وجہ سے ان اسناد کی نقل تیار کرنا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتری کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے اور یہ کوشش آئندہ بھی جاری رہے گی۔کنٹرولر امتحانات نے کہا کہ تعلیمی بورڈ سرگودھا میں عملے کی کمی کو بھی پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تعلیمی بورڈ سرگودھا میں تقریباً 25 فیصد تک سٹاف کی کمی ہے۔کنٹرولر امتحانات نے صحافیوں سے کہا کہ وہ امتحانی نظام میں موجود خامیوں اور کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں جو طلبہ کے مستقبل سے کھیلتے ہیں۔ یقیناً ایسے لوگوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ’’میں جان تو دے سکتا ہوں، لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ کسی بھی مافیا کے ساتھ طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔‘‘کنٹرولر امتحانات نے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میانوالی کے دور دراز امتحانی مراکز میں ابھی بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ امتحانی عمل کے دوران امتحانی عملے کی رہائش اور دیگر معاملات کے مسائل ضرور درپیش آتے ہیں، تاہم ان تمام معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کیا جاتا ہے، جس سے امتحانی نظام میں مزید بہتری کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *