نئے صوبے عوام کی نجات یا ایک اور دھوکہ؟

تحریر طاہراشرف
نئے صوبے عوام کی نجات یا ایک اور دھوکہ؟

پاکستان میں اس وقت ایک بحث زوروں پر ہے۔ ہر طرف یہی چرچا ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں گے۔ کوئی کہہ رہا ہے پنجاب کو تقسیم کیا جائے گا، کوئی کہہ رہا ہے سرائیکستان بنے گا، کوئی بہاولپور صوبے کی بات کر رہا ہے، اور کوئی جنوبی پنجاب کا نام لے رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نئے صوبے بننے سے عوام کی زندگی بدل جائے گی؟ کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟ یا یہ صرف سیاست دانوں کی ایک نئی چال ہے؟آج اگر ہم عام آدمی کی زندگی پر نظر ڈالیں تو منظر بہت دل خراش ہے۔ ایک عام شہری جو دن رات محنت کرتا ہے جو اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے جدوجہد کرتا ہے، وہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی شہر میں اپنے ہی گاؤں میں اپنے جائز کاموں کے لیے در بدر دھکے کھا رہا ہے۔اسے رشوت بھی دینی پڑتی ہے ترلے بھی کرنے پڑتے ہیں، اور ذلیل بھی ہونا پڑتا ہے۔ ایک چھوٹا سا کام کرانے کے لیے اسے کسی ایم این اے کا فون چاہیے، کسی ایم پی اے کی سفارش چاہیے کسی وزیر کی معرفت چاہیے۔ اگر یہ سب نہ ہو تو اس کا کام سالوں تک لٹکا رہتا ہے۔
ہمارے سول محکمے اب محکمے نہیں رہے یہ سیاسی دفتر بن چکے ہیں۔ بیوروکریسی جو اصل میں عوام کی خدمت کے لیے بنائی گئی تھی، وہ اب سیاسی ایجنڈے کے تحت چل رہی ہے۔ کسی کلرک سے لے کر کسی سیکرٹری تک، سب سیاسی دباؤ میں کام کرتے ہیں۔
بیوروکریسی کے حساب سے تو آپ کسی دفتر میں داخل ہی نہیں ہو سکتے جب تک کسی ایم این اے ایم پی اے یا وزیر کا فون نہ ہو۔ یہ سب سیاسی پاور کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اور یہ سیاسی پاور کہاں سے آتی ہے؟ یہ پاور آتی ہے اس بے بس عوام کے ووٹ سے۔
عوام اپنا ووٹ دے کر کسی جماعت کو پاور دیتے ہیں۔ وہی ووٹ ان سیاست دانوں کو اتنی طاقت دیتا ہے کہ وہ عوام کو بھول جاتے ہیں۔ وہی عوام پھر انہی سیاست دانوں کے دفتروں کے باہر کھڑے ہوتے ہیں، اپنے چھوٹے موٹے جائز کاموں کے لیے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں۔کیسی بدقسمت عوام ہے اپنے ہی ملک میں اپنے ہی شہر میں اپنے ہی گاؤں میں اپنے جائز کاموں کے لیے رشوت بھی دیتے ہیں ترلے بھی کرتے ہیں، اور دھکے بھی کھا رہے ہوتے ہیں۔کیا اسی لیے ووٹ ہوتے ہیں؟ کیا اسی لیے ان وڈیروں کا انتخاب کیا جاتا ہے؟ کیا اسی لیے ان سیاست دانوں کو پاور دی جاتی ہے؟ کہ عوام ہمیشہ غلامی کی زندگی گزارے؟ کہ عوام اپنے حق کے لیے کبھی کسی وزیر کے قدموں میں گرتا رہے، کبھی کسی بیوروکریٹ کے آگے ہاتھ پھیلاتا رہے، کبھی کسی ایم این اے کے دروازے پر دستک دیتا رہے، کبھی کسی ایم پی اے کی منت کرتا رہے؟اب سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بننے سے یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا؟ کیا نئے صوبے عوام کی زندگی آسان کریں گے؟ کیا نئے صوبے انہیں انصاف دیں گے؟حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبے بنانے سے صرف انتظامی تقسیم ہوتی ہے۔ اگر نظام وہی رہے گا اگر سوچ وہی رہے گی، اگر سیاست دان وہی رہیں گے تو پھر کچھ نہیں بدلے گا۔ عوام پھر بھی دھکے کھاتے رہیں گے، رشوت دیتے رہیں گے، اور ذلیل ہوتے رہیں گے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہر صوبے کا ایک گورنر ہو جو سارے سسٹم کو ہینڈل کرے۔ لیکن کیا گورنر سے مسائل حل ہوں گے؟ گورنر تو صرف آئینی سربراہ ہوتا ہے۔ اصل طاقت تو وزیر اعلیٰ اور بیوروکریسی کے پاس ہوتی ہے۔ اگر وہی بیوروکریسی بدعنوان رہے گی اگر وہی سیاست دان عوام کو ہتھیار بناتے رہیں گے تو گورنر کیا کرے گا اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں ہے۔ اصل مسئلہ نظام کا ہے۔ اصل مسئلہ سوچ کا ہے۔ اصل مسئلہ ان سیاست دانوں کا ہے جو عوام کو صرف ووٹ کے وقت یاد کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ ان بیوروکریٹس کا ہے جو رشوت کے بغیر کام نہیں کرتے۔جب تک یہ نظام نہیں بدلے گا جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی جب تک سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کا احتساب نہیں ہوگا تب تک نئے صوبے بنانا صرف ایک دکھاوا ہوگا۔ عوام کو انصاف نہیں ملے گا۔حل یہ ہے کہ عوام کو شعور دیا جائے۔ عوام کو یہ سمجھایا جائے کہ ان کا ووٹ کتنی طاقت رکھتا ہے۔ عوام کو یہ بتایا جائے کہ وہ اپنے ووٹ سے ان سیاست دانوں کو باہر کر سکتے ہیں جو انہیں صرف ووٹ کے وقت یاد کرتے ہیں۔حل یہ ہے کہ بیوروکریسی کا احتساب ہو۔ حل یہ ہے کہ رشوت خوری کے خلاف سخت اقدامات ہوں۔ حل یہ ہے کہ نظام کو شفاف بنایا جائے۔حل یہ ہے کہ عوام کو ان کے حقوق دلائے جائیں نئے صوبے بننا کوئی بری بات نہیں ہے۔ اگر اس سے عوام کی زندگی آسان ہو اگر اس سے انہیں انصاف ملے، اگر اس سے ان کے مسائل حل ہوں، تو ضرور بننے چاہئیں۔ لیکن صرف نئے صوبے بنانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل طاقت ان کے پاس ہے۔ ان کا ووٹ ہی ان کی طاقت ہے۔ اگر وہ اس طاقت کا صحیح استعمال کریں اگر وہ اپنے ووٹ کی قدر کریں تو کوئی سیاست دان انہیں دھوکہ نہیں دے سکتا۔ کوئی بیوروکریٹ ان سے رشوت نہیں مانگ سکتا۔وقت آ گیا ہے کہ عوام جاگیں۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں۔ ورنہ نئے صوبے بنتے رہیں گے پر عوام کی حالت وہی رہے گی۔ دھکے رشوت ذلت اور غلامی۔اللہ ہماری قوم کو ہدایت دے اور انہیں اپنے حقوق کی پہچان عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *