حیدرآباد ( رپوٹ عمران مشتاق ) ایم کیو ایم کے اراکین سندھ اسمبلی نے سول ہسپتال کی تقسیم کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے حیدرآباد میں صحت کی سہولیات کی فراہمی پر سوالات اٹھا دئیے ہیلتھ مینجمینٹ بورڈ میں شہری منتخب نمائندوں کو شامل کرنے کا مطالبہ حق پرست اراکین اسمبلی انجینئر صابر حسین قائم خانی ایڈوکیٹ راشد خان اور ناصر حسین قریشی نے حیدرآباد پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہیلتھ مینجمینٹ بورڈ کی آج جمعہ 17 اپریل کو ہونے والی میٹنگ میں سندھ کے دوسرے بڑے سول ہسپتال حیدرآباد کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے ممکنہ منصوبے کو ایجنڈہ میں شامل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور تقسیم کے عمل کو نہ روکنے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دیدی انہوں نے کہاکہ حکومت سول اسپتال کی مرکزی حیثیت کو ختم کرکے کرپشن کا ایک نیا دروازہ کھولنا چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ سالانہ چار ارب بجٹ رکھنے والا سول ہسپتال حیدرابادمیں بد انتظامی عروج پر ہے مریضوں کو طبی سہولیات کی عدم فراہمی ادویات تک دستیاب نہیں پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسرز وارڈوں کا دورہ تک نہیں کرتے 18 گریڈ کے جونیئر افسر جن کا لائسنس بھی معطل بتایا جاتا ہے ایم ایس مقرر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ وی سی لمس کو سول ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں کا ڈی ڈی او پاور تفویض کرنا حیران کن بات ہے انہوں نے کہاکہ دو ہزار بیڈ پر مشتمل سول ہسپتال کو اپ گریڈ کرنے کے بجائے س کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وزیر صحت سول ہسپتال میں طبی سہولیات فراہم کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ اس جانب توجہ دے سکیں برنس وارڈ قائم کرنے کا وعدہ اب تک ایفا نہ ہوسکا خسرہ کی بیماری سے گزشتہ سال 45 بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے قدیمی سول ہسپتال کو دانستہ طور پر برباد کی جارہا ہے عدم توجہی کے سبب اموات کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کے اربن ایریاء کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے کبھی تعلیمی بورڈ کی حیدرآباد سے باہر منتقلی کی باتیں کی جاتی ہیں کبھی سول ہسپتال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئیے تو ایم کیو ایم پاکستان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے میں حق بہ جانب ہوگی انہوں نے کہاکہ نوابزادہ سکھر اور میرپور خاص سمیت دیگر اضلاع میں مریضوں کی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہسپتال قائم کئیے جائیں انہوں نے کہاکہ ہمارے جوان سرحدوں کی حفاظت پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں دوسری طرف سندھ حکومت پیسہ بنانے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے جس کا عدلیہ بالخصوص مقتدر حلقوں کو صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے انہوں نے کہاکہ وقت آنے پر غیر قانونی کاموں کا حصہ بننے والے وزراء مشیران معاون خصوصی چیف سیکریٹری ہیلتھ سمیت دیگر اداروں کے سیکریٹریز صاحبان کا احتساب کیا جائیگا انہیں جواب دینا ہوگا
