سیپکو ، حیسکو ملازمین کو دوران ڈیوٹی تحفظ فراہم کرنا نہ صرف ادارے کی بلکہ مقامی شہری انتظامیہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملازمین کے جان و مال کی حفاظت کیلئے اپنا کردار ادا کریں آئے دن ہمارے ملازمین پر شر پسند افراد کے حملے ، ڈکیتی اور مال و اسباب چھینے کے واقعات معمول بن چکے ہیں ابھی گذشتہ دنوں سیپکو سب ڈویژن نوشہرو فیروز کے محنت کش لائن مین سعید احمد میمن جو رات کی ڈیوٹی کی انجام دہی کے بعد رات کو 9½ بجے گھر واپس آرہا تھا کہ حبیب چوک کے پاس دو ڈکیتوں نے ان سے 2026 کی نئی سی ڈی ہنڈا موٹر سائیکل اور موبائل اسلحہ کے زور پر چھین لیے اور جان سے مارنے کی دھمکی دے کر بھاگ گئے۔ جسکی فوری طور پر پولیس اسٹیشن میں این سی کٹوائی جاچکی ہے مگر تاحال اسکی کوئی سنوائی اور درآمد گی عمل میں نہیں لائی جاسکی جسکے باعث ملازمین رات کو ڈیوٹی کی انجام دہی سے خوف زدہ اور عدمِ تحفظ کا شکار ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے لیبر ھال سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا انہوں نے مزید کہاکہ یہ واقعہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہے اس سے قبل بھی ہمارے ملازمین میٹر سپروائزر محمد خان سولگنی اور بی ڈی عمران سومرو سے بھی موٹر سائیکل چھینی جاچکی ہیں جو تاحال برآمد نہیں ہوچکی ہیں۔ انہوں نے سیپکو اور مقامی شہری انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کے جان و مال کو تحفظ دینا آپ کی ذمہ داری ہے ہمارے ملازمین نے جب مقامی شہری انتظامیہ سے رابطہ کیا تو کوئی عملی کاروائی نظر نہیں آئی بلکہ صرف وعدوں اور یقین دھانیوں سے وقت گزار دیا جاتا ہے ہمارے ملازمین اور یونین نمائندگان نے اس حوالے سے نوشہرو فیروز میں احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تاکہ سنوائی ہو اور مقامی انتظامیہ متحرک ہوکر برآمدگی کرائے مگر افسوس ابھی تک ملازمین چکر پر چکر لگانے پر مجبور ہیں ۔ لہذا ہماری یونین پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ہمارے ملازمین خواہ سیپکو کے ہوں یا حیسکو کے انہیں دوران ڈیوٹی مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور انکے مال و اسباب کی برآمدگی کو یقینی بنایا جائے ورنہ ہم احتجاج کے دائرے کو بڑھانے پر مجبور اور اعلیٰ سطح پر اس مسئلے کو اٹھانے پر مجبور ہونگے۔اور ہم رات کی ڈیوٹی اور بجلی کی روانی کو جاری رکھنے سے قاصر ہونگے۔
